دل کے سوال

مجھے سچ مچ لگتا ہے کہ میں حد پار کر چکا ہوں۔ میرے گناہ اتنے زیادہ اور اتنے بھدے ہیں کہ دل ہی دل میں مجھے یقین ہے کہ میں بخشش کے قابل نہیں رہا۔ کیا یہ سچ ہے؟

Itne gunah kya bakhshish nahi milegi

پہلی بات تو یہ کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اب ذرا اس خیال کو کھول کر دیکھ لیتے ہیں جو آپ کے دل میں بیٹھ گیا ہے۔

یہ جو آپ محسوس کر رہے ہیں کہ بخشش کا دروازہ اب آپ کے لیے بند ہو چکا، یہ کوئی فیصلہ نہیں، صرف ایک احساس ہے، اور یہ احساس اکثر شرمندگی کی آواز ہوتا ہے، اللہ کی آواز نہیں۔ اللہ کی بات تو قرآن میں لکھی ہوئی موجود ہے، اور وہ انہی لوگوں سے کی گئی ہے جو سمجھتے ہیں کہ اب بہت دور نکل آئے ہیں۔

”کہہ دیجیے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے بڑھ کر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے کے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔“

قرآن، سورۃ الزمر ۳۹:۵۳ · مفہوم

ایک بات پر غور کیجیے۔ زیادتی کا ذکر بھی اسی جملے میں ہے اور پکار پھر بھی ”میرے بندو“ ہی کی ہے۔ رشتہ توڑا نہیں گیا۔ اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ چھوٹے گناہ بخشتا ہوں، یا کچھ گناہ بخشتا ہوں، یا انہی کے بخشتا ہوں جو اس کے لائق ہوں۔ فرمایا، سارے کے سارے۔ اب اپنے آپ کو اس میں سے الگ کر لینا، یہ دراصل وہ حد کھینچنا ہے جو خود اللہ نے کھینچنے سے انکار کر دیا۔

ایک بات اور۔ آپ کو اپنے گناہ بھاری لگ رہے ہیں، آپ انہیں پہچانتے بھی ہیں اور ان سے پاک ہونا بھی چاہتے ہیں، یہ دوری کی علامت نہیں، یہیں سے لوٹنا شروع ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ تمہیں لے جاتا اور ایسے لوگ لے آتا جو گناہ کرتے، پھر اللہ سے بخشش مانگتے، اور وہ انہیں بخش دیتا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۴۹) · مفہوم

دیکھیے، اس میں بات کیا ہے۔ لغزش کھا کر شرمندہ ہونا اور پھر بخشش کی طرف جھک جانا، یہ اس رشتے سے باہر کی چیز نہیں، یہی وہ رشتہ ہے جو رب اپنے بندوں سے رکھنا چاہتا ہے۔ آپ حد سے باہر نہیں نکلے، آپ بس اس دروازے تک آ پہنچے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ کھلتا ہے۔

سو یہ خیال دل سے اتار دیجیے کہ آپ اکیلے وہ شخص ہیں جو دروازے سے باہر رہ گیا۔ یہ بات کبھی سچ تھی ہی نہیں، اور یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں تھا بھی نہیں۔ دروازہ آپ کے پہنچنے سے پہلے کھلا ہوا تھا، اور اب بھی کھلا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج رات سونے سے پہلے ایک بار زبان سے کہیے، ”اللہ سارے گناہ بخشتا ہے، اور میں اس سے باہر نہیں“، اور یہی جملہ ساتھ لے کر سو جائیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔