دل کے سوال

میں نے سنا ہے کہ گناہ کر کے توبہ کرنے والا شخص کبھی کبھی اُس سے زیادہ اللہ کو محبوب ہو سکتا ہے جس نے کبھی گناہ نہ کیا۔ یہ تو سچ ہونے کے لیے بہت اچھا لگتا ہے، کیا یہ واقعی ایسا ہے؟

Tauba karne wala Allah ko mehboob

پہلے وہ بات طے کر لیں جس میں کوئی شبہ نہیں، اور یہی بات دل کے لیے کافی ہے: اللہ اپنے بندے کے لوٹ آنے پر خوش ہوتا ہے، اور توبہ کرنے والوں سے محبت کا اعلان خود فرماتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ گر کر لوٹنے والا اُس شخص سے بھی بڑھ جاتا ہے جس نے کبھی گناہ ہی نہیں کیا، تو اِس پر اہلِ علم نے بڑی احتیاط سے کلام کیا ہے، اور یہ فیصلہ میں آپ کے سر پر نہیں رکھوں گا۔ بندوں کے درجے مقرر کرنا اُسی ذات کا کام ہے جو دلوں کا حال جانتی ہے۔ آپ کے حصے میں آج وہ بات ہے جس میں شک نہیں: آپ کے پلٹ آنے پر وہ خوش ہوتا ہے۔ یہ منظر نبی کریم ﷺ کی زبان سے سنیے۔

”اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اُس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری بیابان میں گم ہو جائے، جس پر اُس کا کھانا پینا لدا ہو، پھر وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے سائے میں لیٹ جائے، اور اچانک اُسے اپنی وہی سواری اپنے سرہانے کھڑی مل جائے، تو وہ بے قابو ہو کر پکار اٹھے: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں، شدتِ مسرت میں غلطی سے یوں کہہ بیٹھے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۳۰۹ / مسلم ۲۷۴۷a) · مفہوم

ذرا اِس منظر پر ٹھہریے۔ ایک مسافر موت کے قریب پہنچ چکا تھا، پھر اچانک اُس کی کھوئی ہوئی متاع سامنے آ گئی، اور خوشی کی شدت میں زبان تک لڑکھڑا گئی۔ اللہ تعالیٰ کی خوشی اپنے بندے کے لوٹنے پر اِس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور ایک بات دل خود محسوس کر لیتا ہے: جس نے دوری کی تلخی چکھی اور پھر شرمندگی کے ساتھ واپس آیا، اُس کے اندر ایک نرمی اور محتاجی اُتر آتی ہے جو پہلے نہ تھی، اور اُس کے ہاں یہ عاجزی بےقدر نہیں جاتی۔

اور دیکھیے، رب کریم نے اپنی محبت کا ذکر کرتے ہوئے لوٹنے والوں کا نام لیا ہے۔

”بے شک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“

قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۲۲۲ · مفہوم

لفظ پر غور کیجیے، ”محبت“ کہا گیا ہے، صرف قبولیت یا معافی نہیں۔ اور یہاں کسی بندے کا کسی دوسرے سے موازنہ بھی نہیں ہو رہا، بس لوٹنے والوں کو نام لے کر بتا دیا گیا ہے کہ وہ محبوب ہیں۔ اِس لیے ماضی کی کوئی لڑکھڑاہٹ آپ کو یہ گمان نہ دلائے کہ دروازہ تنگ ہو گیا ہے۔ ہر واپسی ایک نئی شروعات ہے، اور واپس آتے وقت جو خاموش بےقراری دل میں اٹھتی ہے، وہی اِس کی علامت ہے کہ وہ پہلے ہی آپ کی طرف متوجہ ہو چکا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج رات سونے سے پہلے، تنہائی میں ایک لمحہ ٹھہر کر دل سے سوچیے کہ میرا رب میرے لوٹ آنے پر خوش ہوتا ہے، اور اِسی احساس کے ساتھ ایک بار کہیے: ”اے اللہ، میں تیری طرف لوٹ آیا ہوں، مجھے قبول فرما لے۔“

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔