دل کے سوال

کام پر بعض اوقات جب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نگران نہیں دیکھ رہا تو میں تھوڑی سی کوتاہی کر لیتا ہوں۔ اگر نتیجہ ٹھیک لگے اور کسی کو نقصان نہ ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

Bina nigrani kaam mein kotahi

دفتر کی حد تک آپ کی بات ٹھیک ہے۔ نگران سامنے نہ ہو تو کوتاہی پکڑی نہیں جاتی۔ سوال صرف یہ ہے کہ اُس وقت واقعی کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا؟ جہاں انسان کی نظر ختم ہوتی ہے، وہیں سے ایک اور نظر شروع ہوتی ہے، جو بند دروازوں کے پیچھے بھی پہنچی ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دین کی سب سے اونچی منزل کا نام احسان رکھا اور اُس کی تعریف ایک ہی جملے میں سمو دی:

”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اِس طرح کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھتے تو (یقین رکھو کہ) وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۵۰ / مسلم ۸a) · مفہوم

غور کیجیے تو اِس جملے کے بعد آپ کا سوال ہی بدل جاتا ہے۔ معاملہ نگران کا نہیں، بھول کا ہے۔ کمرہ خالی ہو تو دل کو گمان ہونے لگتا ہے کہ اب کوئی نہیں دیکھ رہا، اور قرآنِ کریم اِسی گمان پر ہلکے سے ہاتھ رکھتا ہے:

”کیا اُس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟“

قرآن، سورۃ العلق ۹۶:۱۴ · مفہوم

یہ ڈانٹ نہیں، جگانے والی پکار ہے۔ اور یہی یاد دہانی ایک اور جگہ ڈرانے کے لیے نہیں، ساتھ نبھانے کے انداز میں آتی ہے:

”بے شک اللہ تم پر ہر وقت نگہبان ہے۔“

قرآن، سورۃ النساء ۴:۱ · مفہوم

تجربے کی بات بھی سن لیجیے۔ آدمی کو محض یہ محسوس ہو جائے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو اُس کا رویہ سنبھل جاتا ہے، حتیٰ کہ دیوار پر بنی آنکھوں کی تصویر تک فرق ڈال دیتی ہے۔ مومن کو ایسی کسی تصویر کی ضرورت نہیں، وہ یہ احساس اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے، اور اِسی سے کام کا درجہ بدل جاتا ہے۔ جو کام کسی کی نظر میں کبھی نہیں آئے گا، وہ دکھاوا نہیں رہتا، سیدھا اپنے مالک کے سامنے پیش ہو جاتا ہے۔ نقشبندی مجددی مشائخ اِسے استحضار کہتے ہیں، یعنی کام کے دوران یہ خیال جاگتا رہے کہ مالک حاضر ہے، اور یہی خیال معمولی دفتری کام کو بھی سنوار دیتا ہے۔ رہا نتیجہ، وہ دونوں صورتوں میں ٹھیک لگ سکتا ہے۔ فرق اِس میں ہے کہ کام کرتے ہوئے آپ خود کیا بن رہے ہیں، اور شام کو دل میں پورا کام کر لینے کا اطمینان ہے یا نہیں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ عادت ایک کمرے میں نہیں ٹھہرتی۔ جو ہاتھ محفوظ جگہ پر کاٹ چھانٹ کا عادی ہو جائے، وہ کسی دن وہاں بھی یہی کرے گا جہاں نقصان ہو گا۔

ایک چھوٹا قدم: کل ایک ایسا کام چنیں جس کی کوئی جانچ نہیں ہونی، اور اُسے پورا اور ٹھیک ٹھیک مکمل کیجیے، دل میں آہستہ سے صرف اِتنا کہتے ہوئے، ”میرے مالک، تُو مجھے دیکھ رہا ہے۔“

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔