ایک عورت ہونے کے ناطے، جس کے ذمے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال ہے، میں سوچتی ہوں: کیا یہ باطنی راستہ میرے لیے بھی کھلا ہے؟ یا اس پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے خاندان اور روزمرہ ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہونا پڑے گا؟
Ghar wali aurat aur rohani raasta
بہن، اللہ کی طرف جانے والا راستہ گھر چھوڑنے کا راستہ نہیں، گھر ہی میں چلنے کا راستہ ہے۔ چولہا، بچے کا پالنا، رات کو جاگ کر بچے کو سنبھالنا، دن رات کا صبر، یہ سب آپ اور اللہ کے درمیان رکاوٹ نہیں، یہی وہ زمین ہے جس میں قرب کا پودا پروان چڑھتا ہے۔ باطن کا سفر دل کا سفر ہے، اور دل ہر جگہ آپ کے ساتھ رہتا ہے، ہاتھ کام میں لگے ہوں تب بھی۔
قرآن نے اپنے مقبول بندوں کا تذکرہ کیا تو مرد اور عورت کو ساتھ ساتھ، شانہ بشانہ رکھا۔
”اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں، اللہ نے اُن کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“
قرآن، سورۃ الاحزاب ۳۳:۳۵ · مفہوم
اِس آیت میں ایمان، فرمانبرداری، صبر اور ذکر، ہر خوبی کا شمار ہے، اور ہر مقام پر عورتوں کا نام مردوں ہی کے الفاظ میں آیا ہے۔ اجر میں آپ کا حصہ کم نہیں رکھا گیا، وہی بخشش، وہی اجر، وہی قرب۔ اور جس ذکر کی یہاں تعریف ہو رہی ہے، اُس کے لیے بچوں سے کنارہ کرنا شرط نہیں۔ یہ دل کا اللہ کی طرف جھکاؤ ہے، جو دودھ پلاتے ہوئے، کھانا پکاتے ہوئے، آدھی رات کو روتے بچے کو تھپکی دیتے ہوئے بھی قائم رہ سکتا ہے۔
ہماری نقشبندی مجددی راہ کی شان بھی یہی ہے کہ یہاں دنیا چھوڑنے کو نہیں کہا جاتا، دنیا میں رہتے ہوئے دل کو اللہ کی طرف موڑنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔ بزرگ اِسے ”خلوت در انجمن“ کہتے ہیں، یعنی مجمعے میں تنہائی، ہاتھ کام میں اور دل یار کے ساتھ۔ سو یہی چولہا، یہی آنگن، یہی گود آپ کی خانقاہ ہے۔
اور جب کام چھوٹے اور بےقدر لگنے لگیں، کوئی شکریہ کہنے والا نہ ہو اور کل پھر وہی کام سامنے ہوں، تو یہ وعدہ سامنے رکھیے۔
”جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اِس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو ہم ضرور اُسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔“
قرآن، سورۃ النحل ۱۶:۹۷ · مفہوم
”حیاتِ طیبہ“، یعنی وہ میٹھی اور مطمئن زندگی، کسی الگ تھلگ گوشے میں نہیں ملتی، اِسی گھر گرہستی کے بیچوں بیچ عطا ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کتنی ہی خواتین ایسی گزری ہیں جو گھر سے قدم باہر نکالے بغیر دل کے بلند مقامات تک پہنچیں، اور ایسے بچے پالے جو پوری اُمت کے چراغ بنے۔ گھر اُن کے راستے کی دیوار نہیں تھا، گھر ہی اُن کا راستہ تھا۔ آپ کی ممتا، آپ کا صبر، آپ کی خدمت، اگر اللہ کے لیے ہو تو یہی عبادت ہے۔
سو بچوں اور رب میں سے کسی ایک کو چننے کا سوال ہی نہیں۔ جس نے یہ بچے عطا کیے، اُسی نے اِسی محبت کے اندر اپنی طرف آنے کا راستہ رکھ دیا ہے۔ صبر سے کیا ہوا ہر کام، دھیان سے پکایا ہوا ہر کھانا، سوتے بچے پر پڑھی ہوئی ہر دعا، سب اوپر جاتی ہے۔ آپ اِس راستے کے دروازے سے باہر کھڑی نہیں ہیں، آپ اندر ہیں۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب آپ کوئی گھریلو کام شروع کریں، مثلاً کھانا پکانا یا بچوں کو تیار کرنا، تو دل میں ہولے سے یہ نیت باندھ لیجیے کہ ”یہ خدمت میں اپنے رب کی رضا کے لیے کر رہی ہوں“، اور اُس دوران زبان پر آہستہ آہستہ ”اللہ، اللہ“ جاری رکھیے۔
