دل کے سوال

یہ بیعت کا تصور، کہ اپنا ہاتھ شیخ کے ہاتھ میں دے کر خود کو اُس سے وابستہ کر لینا، مجھے عجیب اور نیا سا لگتا ہے۔ کیا یہ کوئی گھڑی ہوئی رسم نہیں جس کی نبی کریم کے زمانے میں کوئی بنیاد نہ تھی؟

Bayat ka tasawwur aur uski daleel

جس بات کا سرا معلوم نہ ہو، اُس پر تامل ہونا فطری ہے۔ بیعت کے بارے میں پہلی بات یہی سمجھ لیجیے کہ یہ بعد کی گھڑی ہوئی کوئی رسم نہیں، خود نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے، اور قرآن نے اِسے اپنی آیتوں میں محفوظ کر دیا ہے۔

صحابہ کرام نے جب اپنے ہاتھ آقا ﷺ کے ہاتھ میں دیے، تو اللہ تعالیٰ نے اِس عمل کو اپنی ذات سے جوڑ دیا،

”بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں، وہ حقیقت میں اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں پر ہے۔“

قرآن، سورۃ الفتح ۴۸:۱۰ · مفہوم

ہاتھ میں ہاتھ دینا بظاہر ایک معمولی سی بات تھی، مگر رب نے فرمایا کہ اِن ہاتھوں کے اوپر اُس کا اپنا ہاتھ ہے۔ اصل چیز وہ عہد تھا جو دل نے باندھا، اور ہاتھ اُس عہد کی علامت بنا۔

پھر یہ دروازہ کسی ایک طبقے تک محدود نہ رہا۔ ایمان والی خواتین بھی اِسی عہد میں شریک ہوئیں، اور اللہ نے خود اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اُن کی بیعت قبول فرما لیں،

”اے نبی، جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس اِس بات پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی … تو اُن سے بیعت لے لیجیے اور اُن کے لیے اللہ سے بخشش مانگیے۔“

قرآن، سورۃ الممتحنہ ۶۰:۱۲ · مفہوم

غور کیجیے، بیعت کورا وعدہ نہیں ہوتی۔ آیت خود اُن شرطوں کا ذکر کرتی ہے جن پر یہ عہد باندھا جاتا ہے، یعنی اللہ کی ناراضی والی ہر بات سے رُخ پھیر لینا، اور آیت کا اختتام اِس پر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اُن کے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ گویا یہ عہد شرط سے شروع ہوتا ہے اور رحمت پر مکمل ہوتا ہے۔

تو درخت کے نیچے کی بیعت ہو یا اسلام پر بیعت، دونوں نبی کریم ﷺ کے زمانے کی زندہ حقیقت ہیں۔ آج جو بیعت کسی صاحبِ سلسلہ کے ہاتھ میں دی جاتی ہے، وہ نہ کوئی نیا دین ہے، نہ کوئی نیا فرض۔ وہ اُسی پرانے عہد کی تجدید ہے، اور کسی انسان کی غلامی نہیں، بلکہ اپنے ارادے کو ایک عملی صورت دینا ہے کہ اب نیکی کی طرف چلنا ہے اور برائی سے بچنا ہے۔ دل جب کوئی پکا فیصلہ کر لیتا ہے، تو اُسے ظاہر کی کوئی صورت بھی چاہتا ہے، اور ہاتھ ملا کر وعدہ کرنا اِسی کا سادہ سا انداز ہے۔

جو بات اجنبی لگ رہی تھی، وہ دراصل بہت پرانی اور مانوس ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج سورۃ الفتح کی آیت ۱۰ ایک بار ٹھہر کر پڑھیے، اور دل میں یہ نیت باندھ لیجیے کہ اِسی سنت کی طرف قدم بڑھانا ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔