میں بار بار سنتا ہوں کہ اہلِ خانہ سے اچھا سلوک عبادت ہے، لیکن نفل نماز اور روزوں کے مقابلے میں یہ عام اور غیر روحانی سا لگتا ہے۔ کیا گھر میں گزارا وقت واقعی اللہ کے ہاں شمار ہوتا ہے؟
Ghar walon ka khayal bhi ibadat
یہ خیال کہ نفل نماز اور روزہ ہی روحانیت ہے اور گھر کا وقت محض دنیا کا کام، عبادت کا دائرہ ناحق تنگ کر لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے عبادت کو مسجد کے کونے اور جائے نماز کی چٹائی تک محدود سمجھ لیا ہے، حالانکہ دین کا دامن اس سے بہت کشادہ ہے۔ گھر بھی عبادت کا ایک بڑا میدان ہے، اور آپ برسوں سے اسی میدان میں کھڑے ہیں۔
پہلے حضور ﷺ کا یہ ارشاد سنیے، جو گھر کے معمولی سے معمولی لمحے کو اجر سے بھر دیتا ہے۔
”تم اللہ کی رضا کی خاطر جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھتے ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۶) · مفہوم
ایک لقمہ۔ نہ رات بھر کا قیام، نہ دور کا سفر، صرف محبت سے اٹھایا ہوا ایک نوالہ، اور وہ بھی لکھا جاتا ہے۔ جب اتنی سی بات اجر بن سکتی ہے تو اندازہ کیجیے کہ پورا دن کیا کیا لکھواتا ہے۔ کھانا تیار کرنا، بچے کو گود میں اٹھانا، تھکے ہوئے کندھوں کو سہارا دینا۔ خرچ کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر دل میں اللہ سے اجر کی نیت ہو تو گھر والوں پر کیا گیا خرچ خود صدقہ ہے۔
”جب مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۱۰۰۲a) · مفہوم
یعنی وہ صدقہ جس کے بارے میں آپ سوچتے تھے کہ جیب میں دینے کے لیے کچھ نہیں، وہ آپ اپنے ہاتھوں اور اپنے صبر سے روز دیتے آ رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، بیوی کا بوجھ ہلکا کرنا، والدین کے پاس بیٹھ کر ان کی بات سننا، یہ سب اسی صدقے میں شامل ہے۔
اور اگر کسی کے دل میں یہ گمان ہو کہ روحانی آدمی وہی ہے جو گھر سے کٹ کر اللہ کو کہیں اور تلاش کرے، تو آپ ﷺ نے آدمی کو پرکھنے کی کسوٹی اس کے اپنے دروازے کے اندر رکھ دی ہے۔
”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔“
نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۳۸۹۵) · مفہوم
اللہ کے ہاں بڑائی کا فیصلہ صرف ان کاموں سے نہیں ہوتا جو دیکھنے میں بڑے لگتے ہیں۔ اس سے بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ آپ کو تھکا ہوا اور بے تکلف دیکھتے ہیں، ان کے ساتھ آپ کا برتاؤ کیسا ہے۔ نفل اور روزہ بے شک نور ہیں، اللہ ان میں اضافہ فرمائے، مگر گھر کا رویہ وہ زمین ہے جس پر یہ سب کھڑا ہوتا ہے۔ اپنے عام گھنٹوں میں نیت شامل کر لیجیے، دل میں کہہ لیجیے کہ یہ تیرے لیے ہے، اور سادہ سی شام قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے گی۔
ایک چھوٹا قدم: آج گھر میں داخل ہونے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر کر دل میں نیت کر لیجیے کہ ”یا اللہ، آج شام گھر والوں کے ساتھ میرا حسنِ سلوک تیری رضا کے لیے ہو“، اور پھر اسی نیت کے ساتھ ان کی خدمت کیجیے۔
