دل کے سوال

میں اپنے بچوں اور دوستوں سے آسانی سے وعدے کر لیتا ہوں، پھر زندگی کی مصروفیت میں انہیں پورا نہیں کرتا۔ کیا یہ چھوٹے ٹوٹے وعدے واقعی گناہ ہیں؟

Bachon se kiye waade poore karna

وعدہ کر کے نبھا نہ سکنا معمولی بات نہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ جس دل کو یہ کھٹکتا ہے وہ لاپروا دل نہیں ہوتا۔ سو فکر کو ایک طرف رکھ کر بات سیدھے سیدھے سمجھ لیجیے۔

ہوتا یہ ہے کہ مصروف زندگی میں ہلکا پھلکا وعدہ زبان سے نکل جانا ہماری عادت بن جاتی ہے۔ ”جمعہ کو چلیں گے“، ”میں تھوڑی دیر میں فون کرتا ہوں“۔ یہ جملے وقتی طور پر سامنے والے کا دل رکھ لیتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے نبھانے کا پکا ارادہ نہیں ہوتا۔ دین ہم سے کوئی بڑی بات نہیں مانگتا، صرف اتنا کہ زبان اور ہاتھ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ مٹ جائے۔

”اے ایمان والو، تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت بیزاری کی بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔“

قرآن، سورۃ الصف ۶۱:۲-۳ · مفہوم

پھر یہ بھی دیکھیے کہ قرآن نے وعدے کو ایسی چیز نہیں رہنے دیا جسے ہنسی میں ٹال دیا جائے، بلکہ اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

”اور وعدہ پورا کرو، بے شک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“

قرآن، سورۃ الاسراء ۱۷:۳۴ · مفہوم

اور نبی کریم ﷺ نے وعدہ خلافی کو ان نشانیوں میں شمار فرمایا جو دل کے کھوٹ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ ڈرانے کے لیے نہیں، بتانے کے لیے ہے کہ امانت داری کا وزن کتنا ہے۔

”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسے توڑ دے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۳۳) · مفہوم

اس بات کا سب سے زیادہ تعلق گھر سے ہے۔ بچوں پر کام کرنے والے بتاتے ہیں کہ ماں باپ کے چھوٹے چھوٹے پورے کیے ہوئے وعدے ہی بچے کے اندر تحفظ کا احساس بناتے ہیں، کیونکہ بچہ سیکھتا ہے کہ دنیا پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کا نبھایا ہوا ہر لفظ اسی چھت کی ایک اینٹ ہے۔ تو حل یہ نہیں کہ ڈر کے مارے وعدہ کرنا ہی چھوڑ دیں، حل یہ ہے کہ سوچ کر وعدہ کریں اور اتنا ہی کہیں جتنا نبھا سکیں۔ اور کبھی واقعی کوئی مجبوری آ جائے تو چپ چاپ ٹال دینے کے بجائے سامنے والے کو بتا دیں اور معذرت کر لیں، یہ بھی وعدے کا حق ادا کرنا ہے۔ نقشبندی مجددی بزرگ یہی سمجھاتے ہیں کہ سچائی صرف زبان کی صفت نہیں، پورے وجود کی صفت ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج کسی سے وعدہ کرنے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہریں، اور صرف وہی کہیں جس کا یقین ہو کہ کر سکتے ہیں، پھر اسے فون یا ڈائری میں لکھ لیں اور نبھائیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔