میری ماں اور میری بیوی کی آپس میں نہیں بنتی، اور میں بیچ میں پھنسا ہوں۔ کیا مجھے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینی ہی پڑے گی؟
Maa aur biwi ke darmiyan tawazun
سوال میں جس لفظ کا سب سے زیادہ بوجھ ہے وہ ترجیح ہے، اور پہلی بات یہی عرض کرنی ہے کہ آپ سے کسی ایک کو چننے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ ماں کا حق اپنی جگہ ہے، بیوی کا حق اپنی جگہ، اور دونوں کو ایک ساتھ نبھایا جا سکتا ہے۔ بیوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
”اور اُن کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔“
قرآن، سورۃ النساء ۴:۱۹ · مفہوم
اور اسی قرآن میں والدین کے بارے میں فرمایا:
”اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔“
قرآن، سورۃ الاسراء ۱۷:۲۳ · مفہوم
بھائی، یہ دونوں حکم ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں۔ ایک ہی گھر کے دو چراغ ہیں، ایک کو بجھا کر دوسرے کو روشن نہیں کیا جاتا۔ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک ماں کے ادب میں کمی نہیں کرتا، اور ماں کا ادب بیوی کے سکون میں کمی نہیں کرتا۔ جو حق جس کا ہے وہ اُسے پورا دیجیے، اور دونوں کے حق پورے ہو سکتے ہیں۔
اور جس جگہ آپ کھڑے ہیں، نبی کریم ﷺ نے اُس جگہ کو نام دیا ہے:
”جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کرائے وہ جھوٹا نہیں، وہ تو بھلائی پہنچاتا ہے یا بھلی بات کہتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۶۹۲) · مفہوم
یعنی بیچ میں کھڑا آدمی فیصلہ سنانے والا منصف نہیں، صلح کرانے والا ہے، اور جو بھلی بات وہ ایک سے دوسری تک پہنچاتا ہے وہ اُس کے نامے میں جھوٹ نہیں لکھی جاتی۔ آپ عدالت نہیں، پُل ہیں۔ جو لوگ گھروں کے جھگڑے سلجھاتے رہے ہیں، اُن کا تجربہ بھی یہی ہے کہ شوہر جب خود ٹھنڈا رہے اور نرمی سے کسی ایک کا فریق بننے سے انکار کر دے، تو گھر کا تناؤ آہستہ آہستہ خود ہی بیٹھ جاتا ہے۔
عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ماں کے سامنے بیوی کی اچھی بات کریں اور بیوی کے سامنے ماں کی، کسی کو یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ اُس کا درجہ دوسرا ہے، اور ایک کی شکایت دوسری تک نہ پہنچائیں۔ اس جگہ کھڑے ہونے پر دل میں گناہ کا احساس نہ رکھیں، آپ کا یہی صبر پورے گھر کا سکون سنبھالے ہوئے ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اس ہفتے تنہائی میں والدہ سے خیریت پوچھ کر اُن سے دعا لیں، اور اسی طرح تنہائی میں بیوی کا شکریہ ادا کریں کہ وہ گھر سنبھالتی ہیں، بس ایک کی بات دوسری تک شکایت بنا کر نہ پہنچائیں۔
