میں سنتا ہوں کہ ریا 'چھپا ہوا شرک' ہے اور یہ مجھے اتنا ڈراتا ہے کہ میں کوئی نیکی کرنے سے بھی گھبراتا ہوں۔ میں اس ڈر سے مفلوج ہوئے بغیر آگے کیسے بڑھوں؟
Riya ke dar se neki chhorna
یہ ڈر بُرے دل کی علامت نہیں۔ جسے ریا کی ذرا سی آہٹ سے بھی خوف آئے، اُس کے اندر اخلاص کا چراغ جل رہا ہوتا ہے۔ ہاں، شیطان کا داؤ یہ بھی ہے کہ گناہ کی طرف نہ کھینچ سکے تو ڈر کو اِس قدر بڑھا دے کہ آدمی نیکی ہی سے ہاتھ کھینچ لے۔ آئیے دیکھیں کہ یہی ڈر، ٹھیک جگہ رکھا جائے تو دشمن نہیں، مددگار بن جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اِس خطرے سے آگاہ اِس لیے فرمایا کہ ہم اپنے اعمال کی حفاظت کریں، نہ کہ اعمال چھوڑ بیٹھیں
”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر شرکِ اصغر یعنی چھوٹے شرک کا ہے۔” پوچھا گیا، شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا، ریا۔“
نبی کریم ﷺ، مسند احمد (۲۳۶۳۰) · مفہوم
غور کیجیے، یہ تنبیہ صحابہ کرام کو ہو رہی تھی، اُن دلوں کو جن سے بہتر دل کوئی نہیں۔ مقصد شرمندہ کرنا نہیں تھا، سونے کو میل سے بچانا تھا۔ محبت میں دی گئی تنبیہ حفاظت ہوتی ہے، جیسے باپ بچے کا ہاتھ تھامے ہوئے بھی کہتا رہتا ہے، سنبھل کر، یہاں سیڑھی ہے۔
اور جس ذات کو آپ راضی کرنا چاہتے ہیں، وہ آپ کو پکڑنے کی تاک میں نہیں بیٹھی۔ اُس کا بلاوا سنیے
”کہہ دو، اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سارے گناہ بخش دیتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الزمر ۳۹:۵۳ · مفہوم
جب اُس کی بخشش دور نکل جانے والوں تک پہنچتی ہے تو اُس بندے تک کیوں نہ پہنچے گی جو یہیں کھڑا ہے اور فکر صرف اِتنی ہے کہ نیت کہیں کھوٹی نہ ہو۔ ریا سے ڈرنے والا دل تو پہلے ہی اللہ کی طرف مڑا ہوا ہے، غافل دل اپنی نیت کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا۔ اور ریا کوئی ایسا اژدہا نہیں جو ہر نیکی نگل جائے۔ ریا یہ ہے کہ نیکی شروع ہی لوگوں کے دکھاوے کے لیے کی جائے۔ جو کام اللہ کے لیے شروع ہوا اور بیچ میں کوئی خیال آ گیا، تو اُس خیال کو جھٹک دینا خود ایک عبادت ہے، اور اللہ اِس کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔
نقشبندی مجدّدی مشائخ کا مشورہ یہاں بہت کام کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں، نیکی کے وقت یہ حساب نہ لگاؤ کہ کون دیکھ رہا ہے اور کون نہیں۔ شروع میں ایک لمحے کو دل اللہ کی طرف موڑ لو، “یہ تیرے لیے ہے”، پھر بے جھجک آگے بڑھ جاؤ۔ نیت سیدھی کر لینے کے بعد باقی معاملہ اُسی مالک پر چھوڑ دو جو دلوں کا حال جانتا ہے۔ پھر یہ ڈر خوف نہیں رہتا، ایک پہرے دار بن جاتا ہے جو آپ کے اخلاص کی حفاظت کرتا رہتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج کوئی ایک نیکی، خواہ کسی کو پانی ہی پلانا ہو، شروع کرنے سے پہلے دل میں صرف “یا اللہ، یہ تیرے لیے” کہیں، پھر مزید کچھ سوچے بغیر وہ کام کر گزریں اور باقی اپنے رب کی رحمت پر چھوڑ دیں۔
