When I finally do feel something sweet in a prayer, the next day it is gone and salah feels dry again. Why does that closeness come and vanish, and did I lose it by my own fault?جب کبھی نماز میں مجھے کوئی لذت محسوس ہوتی ہے تو اگلے دن وہ غائب ہو جاتی ہے اور نماز پھر خشک لگنے لگتی ہے۔ وہ قربت آ کر کیوں چلی جاتی ہے، اور کیا میں نے اپنی کوتاہی سے اسے کھو دیا؟
No, you did not lose it through some fault of your own. The sweetness came, and then it went, because that is how a living heart behaves on this road. Its going is not a punishment and it is not proof that you failed.
The heart, was never ours to hold and control. It is held in a hand far greater than ours and turned as its Maker wills. Our master, peace be upon him, said this plainly, so that we would never stand accusing ourselves over the tides of feeling:
“The hearts of the children of Adam are all between two of the fingers of the Most Merciful, as one heart; He turns it as He wills.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2654) · meaning
See what this means. If the heart is in His hand, its dryness is not your crime, and its sweetness was never simply your achievement. The masters of our Naqshbandi path name these two states expansion and contraction, and they teach that both come from the same generous Giver. The sweet days are His welcome. The dry days are where love is quietly proven, because anyone turns to Him while the honey is flowing, and only the faithful keep coming when nothing is left but the longing.
So when dryness settles, do not read it as distance. Read it as a call to a nearness that asks nothing back. And in those very moments, reach not for self-blame but for this prayer:
“Our Lord, let not our hearts deviate after You have guided us, and grant us from Yourself mercy. Indeed, You are the Bestower.”
Qur’an, Al-Imran 3:8 · meaning
And know where the rest you are missing actually lives. Not in a feeling that comes and goes, but in the plain, faithful act of remembrance, kept up through the sweet days and the dry ones alike:
“Those who believe and whose hearts find rest in the remembrance of Allah. Verily, in the remembrance of Allah do hearts find rest.”
Qur’an, Ar-Ra’d 13:28 · meaning
So keep coming, sweetness or none. That steady returning is itself the love you are afraid you have lost.
One small step: The next time salah feels dry, do not sit in judgement of yourself. After your salam, whisper the prayer of Al-Imran 3:8 once, and let that asking be enough for the day.
نہیں، یہ آپ کی کسی کوتاہی کی سزا نہیں۔ نماز میں مٹھاس آنا اور اگلے دن اُس کا غائب ہو جانا، یہ اِس راستے پر چلنے والے ہر زندہ دل کا معاملہ ہے۔ دل کا نام ہی ”قلب“ اِس لیے ہے کہ یہ پلٹتا رہتا ہے، کبھی روشنی میں، کبھی سائے میں۔ اور یہ پلٹنا کسی کے اپنے بس میں نہیں، ہمارے رب کے دستِ قدرت میں ہے۔
نبی کریم ﷺ نے یہ بات صاف بتا دی، تاکہ ہم کیفیتوں کے اِس اُتار چڑھاؤ پر خود کو ملزم نہ ٹھہرائیں:
”بنی آدم کے سب دل رحمٰن کی اُنگلیوں میں سے دو اُنگلیوں کے درمیان ایک ہی دل کی طرح ہیں، وہ اُسے جس طرف چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۶۵۴) · مفہوم
ذرا سوچیے، اِس میں کتنی راحت ہے۔ جب دل اُسی کے ہاتھ میں ہے تو خشکی آپ کا جرم نہیں، اور مٹھاس بھی محض آپ کی کمائی نہ تھی۔ ہمارے سلسلۂ نقشبندیہ کے بزرگ اِن دو حالتوں کو بسط اور قبض کہتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ دونوں اُسی ایک کریم کی عطا ہیں۔ مٹھاس کے دن اُس کی خوش آمدی ہیں، اور خشکی کے دن وہ ہیں جن میں محبت چپکے سے پرکھی جاتی ہے۔ شہد ٹپک رہا ہو تو ہر کوئی چلا آتا ہے، مگر جب صرف طلب باقی رہ جائے اور بندہ پھر بھی حاضر ہو، یہی وفا ہے۔
اِس لیے جب خشکی طاری ہو تو اِسے دوری نہ سمجھیے، بلکہ ایسی قربت کی دعوت جانیے جو بدلے میں کچھ نہیں مانگتی۔ اور اُن ہی لمحوں میں خود کو ملامت کرنے کے بجائے ہاتھ اُٹھا کر یہ مانگ لیجیے:
”اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تُو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔“
قرآن، سورۃ آلِ عمران ۳:۸ · مفہوم
اور جو سکون آپ ڈھونڈ رہے ہیں، اُس کا ٹھکانا بھی جان لیجیے۔ وہ آنے جانے والی کیفیت میں نہیں، بلکہ ذکر کے اُس سادہ سے عمل میں رکھا گیا ہے جو مٹھاس کے دنوں میں بھی جاری رہے اور خشکی کے دنوں میں بھی:
”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اُن کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الرعد ۱۳:۲۸ · مفہوم
ایک بات آخر میں۔ جو نماز مزے کے ساتھ ادا ہو، وہ دل کی خوشی ہے، مگر جو نماز بغیر کسی مزے کے، صرف وفا میں کھڑے ہو کر پڑھی جائے، اُس کا مرتبہ اور بلند ہے، کیونکہ اُس وقت بندہ کسی سودے میں نہیں، محض اُسی کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ سو آتے رہیے، مٹھاس ہو یا نہ ہو۔ یہی لوٹ لوٹ کر آنا وہ محبت ہے جس کے کھو جانے کا آپ کو ڈر ہے۔
ایک چھوٹا قدم: جس نماز میں خشکی محسوس ہو، سلام پھیرتے ہی ایک لمحہ رُک جائیے۔ دل میں تین بار ”اللہ، اللہ، اللہ“ کہیے اور اِتنا مانگ لیجیے، اے دلوں کو پھیرنے والے، میرے دل کو اپنی یاد پر جما دے۔ یہی ننھا سا ذکر خشک لگنے والی نماز میں دھیرے دھیرے نمی لوٹا لائے گا۔
