I sometimes take small things from work, office supplies, extra time, personal calls, and tell myself the company is huge and will not miss it. Is this really stealing?میں کبھی کبھی کام سے چھوٹی چھوٹی چیزیں لے لیتا ہوں، دفتری سامان، فالتو وقت، ذاتی کالیں، اور خود کو کہتا ہوں کہ کمپنی تو بہت بڑی ہے، اسے فرق نہیں پڑے گا۔ کیا یہ واقعی چوری ہے؟
Yes, it is. Small taking is still taking. And the fact that something inside you keeps raising the question is worth listening to, so let us look at the matter plainly.
The reasoning you describe is one we have all heard whispered: the company is enormous, it will never notice, a few supplies and a few minutes cannot possibly matter. It is a very human thought. And there is something we quietly notice in ourselves, that a man who would never dream of taking cash from a drawer will slip a pen into his pocket without a second thought, or let his personal minutes stretch. The sheer size of a company seems to blur the edges of the thing, so the heart does not register it as taking. But the size of the one you take from does not change the nature of what is taken.
Allah has drawn the line clearly, and notice that the verse speaks of consuming wealth without asking whose it is:
“And do not consume one another’s wealth unjustly.”
Qur’an, Al-Baqarah 2:188 · meaning
And He names the lawful alternative, the way a trust is meant to work between people:
“Do not consume one another’s wealth unjustly, but only that it be trade by mutual consent among you.”
Qur’an, An-Nisa 4:29 · meaning
Here is the heart of it. Your employer pays you for your time and gives you supplies for the work; that is the agreement, the mutual consent. What was not given by that consent was never handed to you at all. It is a subtle point, easy to miss, which is why the Prophet, peace be upon him, spelled it out for one who is appointed to a task and paid a fixed allowance for it.
“Whoever of you we appoint to a task and provide with a stipend, whatever he takes beyond that is a betrayal of trust.”
The Prophet (peace be upon him), Sunan Abi Dawud (2943) · meaning
The agreed wage is the boundary, and it is not a narrow one. Everything inside it is yours with a clear heart. The pen and the borrowed hour are so light in the hand that we forget they still carry weight in the record. This was said plainly so that nobody walks into it unaware.
And there is a real gain in it for you. The day you decide your work will be entirely honest, a lightness enters the heart. You no longer have to quiet any small voice, because there is nothing left for it to whisper about. Your earnings become clean, and clean earnings are a soil in which every prayer grows better.
One small step: Choose one thing tomorrow, giving your employer your full attention during work hours, or leaving the office supplies for office use only, and keep it clean for that single day, letting Allah see that you honoured the trust.
آپ خود یہ سوال اٹھا رہے ہیں، یہی اِس بات کی علامت ہے کہ اندر کھٹک باقی ہے، اور جس دل میں کھٹک باقی ہو وہ سنبھل جاتا ہے۔ دفتری فضا میں یہ سوچ عام ہو چلی ہے کہ کمپنی تو بہت بڑی ہے، ایک آدھ قلم، تھوڑا سا وقت، ایک ذاتی کال، اِس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ کسی ایک آدمی کا عیب نہیں، عادت بن کر پھیلی ہوئی بات ہے، اِسی لیے پکڑ میں بھی نہیں آتی۔ آئیے، سیدھی بات دیکھ لیں۔
مال کا مالک بڑا ہو یا چھوٹا، اِس سے معاملے کی نوعیت نہیں بدلتی۔ حق حق ہے، خواہ کسی بڑے ادارے کا ہو یا کسی تنگ دست پڑوسی کا۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے کا مال ناحق لینے سے صاف منع فرمایا ہے، اور آیت میں یہ کہیں نہیں پوچھا گیا کہ مال کس کا ہے۔
”اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق طریقے سے مت کھاؤ۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۱۸۸ · مفہوم
اصل بات یہ ہے کہ آپ نے ادارے کو اپنا وقت اور محنت دی ہے اور ادارے نے اُس کے بدلے تنخواہ اور کام کا سامان دیا ہے۔ یہی طے شدہ سودا ہے اور اِسی میں دونوں طرف کی رضا ہے۔ جو چیز اِس رضا میں شامل نہ تھی، وہ دی ہی نہیں گئی۔ دفتری وقت ذاتی کام میں لگے یا ادارے کی چیز اپنی ذات کے لیے اٹھ جائے، تو معاملہ اُس دائرے سے باہر نکل آتا ہے جس پر بات طے ہوئی تھی۔ قرآن نے جائز اور پاکیزہ صورت بھی ساتھ ہی بتا دی ہے۔
”اپنے مال آپس میں ناحق مت کھاؤ، مگر یہ کہ آپس کی رضامندی سے کوئی تجارت ہو۔“
قرآن، سورۃ النساء ۴:۲۹ · مفہوم
نبی کریم ﷺ نے اِس باریکی کو کھول کر بیان فرما دیا۔ جسے کوئی ذمہ داری سونپی جائے اور اُس کے بدلے اُس کی تنخواہ یا وظیفہ مقرر کر دیا جائے، تو حلال وہی ہے جو طے پایا، اور اُس مقررہ حق سے آگے جو کچھ لیا جائے، آپ ﷺ نے اُسے خیانت فرمایا۔
”تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں اور اُس کے لیے تنخواہ (وظیفہ) مقرر کر دیں، پھر وہ اُس کے علاوہ جو کچھ لے، وہ خیانت ہے۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابی داؤد (۲۹۴۳) · مفہوم
یعنی طے شدہ اجرت ہی حد ہے، اور یہ حد تنگ نہیں۔ اِس کے اندر جو کچھ ہے، وہ سب پورے اطمینان کے ساتھ آپ کا ہے۔ ایک قلم اور آدھا گھنٹہ ہاتھ میں اِتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ خیال ہی نہیں آتا کہ حساب میں اِن کا وزن بھی ہے۔ یہ بات صاف صاف اِسی لیے بتا دی گئی کہ کوئی بے خبری میں اِس میں نہ پھنس جائے۔
اب گھبرانے یا اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ عادت ہے، بدل جائے گی۔ اور جس دن کمائی سے یہ باریک سا دھندلاپن نکل جاتا ہے، دل سے ایک بوجھ اتر جاتا ہے، پھر اندر کی کسی آواز کو دبانا نہیں پڑتا، کیونکہ اُس کے کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہتا۔ پاکیزہ کمائی تھوڑی ہو کر بھی جو سکون اور برکت دیتی ہے، وہ بڑی مگر مشکوک آمدنی میں نہیں ملتی۔
ایک چھوٹا قدم: آج سے ایک چھوٹی سی نیت باندھ لیجیے کہ دفتری وقت دفتر ہی کا ہے اور دفتری سامان دفتر ہی کا، اور اگر کوئی ذاتی کال یا کام بہت ضروری ہو تو یہ دل میں رکھ کر کیجیے کہ اُتنا وقت اپنی محنت میں واپس دے دیں گے۔
