دل کے سوال

میں کبھی کبھی کام سے چھوٹی چھوٹی چیزیں لے لیتا ہوں، دفتری سامان، فالتو وقت، ذاتی کالیں، اور خود کو کہتا ہوں کہ کمپنی تو بہت بڑی ہے، اسے فرق نہیں پڑے گا۔ کیا یہ واقعی چوری ہے؟

Daftar ki choti cheezen lena chori

آپ خود یہ سوال اٹھا رہے ہیں، یہی اِس بات کی علامت ہے کہ اندر کھٹک باقی ہے، اور جس دل میں کھٹک باقی ہو وہ سنبھل جاتا ہے۔ دفتری فضا میں یہ سوچ عام ہو چلی ہے کہ کمپنی تو بہت بڑی ہے، ایک آدھ قلم، تھوڑا سا وقت، ایک ذاتی کال، اِس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ کسی ایک آدمی کا عیب نہیں، عادت بن کر پھیلی ہوئی بات ہے، اِسی لیے پکڑ میں بھی نہیں آتی۔ آئیے، سیدھی بات دیکھ لیں۔

مال کا مالک بڑا ہو یا چھوٹا، اِس سے معاملے کی نوعیت نہیں بدلتی۔ حق حق ہے، خواہ کسی بڑے ادارے کا ہو یا کسی تنگ دست پڑوسی کا۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے کا مال ناحق لینے سے صاف منع فرمایا ہے، اور آیت میں یہ کہیں نہیں پوچھا گیا کہ مال کس کا ہے۔

”اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق طریقے سے مت کھاؤ۔“

قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۱۸۸ · مفہوم

اصل بات یہ ہے کہ آپ نے ادارے کو اپنا وقت اور محنت دی ہے اور ادارے نے اُس کے بدلے تنخواہ اور کام کا سامان دیا ہے۔ یہی طے شدہ سودا ہے اور اِسی میں دونوں طرف کی رضا ہے۔ جو چیز اِس رضا میں شامل نہ تھی، وہ دی ہی نہیں گئی۔ دفتری وقت ذاتی کام میں لگے یا ادارے کی چیز اپنی ذات کے لیے اٹھ جائے، تو معاملہ اُس دائرے سے باہر نکل آتا ہے جس پر بات طے ہوئی تھی۔ قرآن نے جائز اور پاکیزہ صورت بھی ساتھ ہی بتا دی ہے۔

”اپنے مال آپس میں ناحق مت کھاؤ، مگر یہ کہ آپس کی رضامندی سے کوئی تجارت ہو۔“

قرآن، سورۃ النساء ۴:۲۹ · مفہوم

نبی کریم ﷺ نے اِس باریکی کو کھول کر بیان فرما دیا۔ جسے کوئی ذمہ داری سونپی جائے اور اُس کے بدلے اُس کی تنخواہ یا وظیفہ مقرر کر دیا جائے، تو حلال وہی ہے جو طے پایا، اور اُس مقررہ حق سے آگے جو کچھ لیا جائے، آپ ﷺ نے اُسے خیانت فرمایا۔

”تم میں سے جسے ہم کسی کام پر مقرر کریں اور اُس کے لیے تنخواہ (وظیفہ) مقرر کر دیں، پھر وہ اُس کے علاوہ جو کچھ لے، وہ خیانت ہے۔“

نبی کریم ﷺ، سنن ابی داؤد (۲۹۴۳) · مفہوم

یعنی طے شدہ اجرت ہی حد ہے، اور یہ حد تنگ نہیں۔ اِس کے اندر جو کچھ ہے، وہ سب پورے اطمینان کے ساتھ آپ کا ہے۔ ایک قلم اور آدھا گھنٹہ ہاتھ میں اِتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ خیال ہی نہیں آتا کہ حساب میں اِن کا وزن بھی ہے۔ یہ بات صاف صاف اِسی لیے بتا دی گئی کہ کوئی بے خبری میں اِس میں نہ پھنس جائے۔

اب گھبرانے یا اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ عادت ہے، بدل جائے گی۔ اور جس دن کمائی سے یہ باریک سا دھندلاپن نکل جاتا ہے، دل سے ایک بوجھ اتر جاتا ہے، پھر اندر کی کسی آواز کو دبانا نہیں پڑتا، کیونکہ اُس کے کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہتا۔ پاکیزہ کمائی تھوڑی ہو کر بھی جو سکون اور برکت دیتی ہے، وہ بڑی مگر مشکوک آمدنی میں نہیں ملتی۔

ایک چھوٹا قدم: آج سے ایک چھوٹی سی نیت باندھ لیجیے کہ دفتری وقت دفتر ہی کا ہے اور دفتری سامان دفتر ہی کا، اور اگر کوئی ذاتی کال یا کام بہت ضروری ہو تو یہ دل میں رکھ کر کیجیے کہ اُتنا وقت اپنی محنت میں واپس دے دیں گے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔