میرے دفتر میں چائے پر ہر کوئی گپ شپ اور چغلی کرتا ہے، اور خاموش رہنے سے میں سرد مہر لگتا ہوں۔ میں دوسروں سے کٹے بغیر اپنی زبان کیسے بچاؤں؟
Daftar ki gupshup mein zabaan bachana
دفتر میں چائے کے وقت کی مشکل یہی ہوتی ہے کہ بات چل نکلتی ہے، آپ چپ رہتے ہیں، اور یہ ڈر لگتا ہے کہ لوگ آپ کو کھنچا کھنچا اور بے مروت سمجھیں گے۔ راستہ محض چپ سادھ لینے میں نہیں، اور جو راستہ ہے وہ اِس سے کہیں آسان اور کھلا ہے۔
پہلے وہ بات دل میں بٹھا لیجیے جو ڈراتی نہیں بلکہ سنبھالتی ہے، کہ ہماری کوئی بات ضائع نہیں جاتی، ایک نگہبان ہر وقت قریب رہتا ہے۔
”وہ کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے۔“
قرآن، سورۃ ق ۵۰:۱۸ · مفہوم
جب یہ احساس دل میں بیٹھ جائے تو چائے کی بے مقصد گفتگو خود بخود اپنی گرفت کھو دیتی ہے، کیونکہ ہر جملہ ایسی چیز لگنے لگتا ہے جسے سنبھال کر خرچ کرنا چاہیے۔ اور حضور ﷺ نے تو ایک ایسا سادہ اصول ہاتھ میں تھما دیا ہے جس پر پورا اخلاق کھڑا ہو سکتا ہے۔
”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۰۱۸ / مسلم ۴۷a) · مفہوم
غور کیجیے، دروازہ ایک نہیں، دو ہیں۔ پتھر بن کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ”اچھی بات کہے“ کا دروازہ کھلا پڑا ہے۔ آپ وہی آدمی بن سکتے ہیں جو کسی ساتھی کے بچوں کی خیر خیریت پوچھ لے، کسی کے اچھے کام کی تعریف کر دے، تھکے ہوئے دن میں کوئی ہلکی پھلکی بات چھیڑ دے۔ یوں زبان چلتی بھی رہے گی اور کسی کے نقصان پر نہیں چلے گی۔ قرآن نے کامیاب بندوں کی جو نشانی بتائی ہے، وہ اِسی رخ کی ہے۔
”اور جو لغو باتوں سے منہ پھیر لیتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المؤمنون ۲۳:۳ · مفہوم
یہ منہ پھیرنا تلخی یا بیزاری نہیں، ایک شریفانہ بلندی ہے، کہ دل بے مقصد اور دوسروں کو دکھ دینے والی باتوں میں الجھنے کے بجائے کسی صاف چیز کی طرف چل دیتا ہے۔ دفتر کی گپ شپ اکثر کوئی گہری بدنیتی نہیں ہوتی، محض عادت اور وقت گزاری ہوتی ہے، اور عادت نرمی سے بدل جاتی ہے۔ آپ سب سے گھلے ملے رہتے ہوئے بھی مجلس کا رنگ آہستہ آہستہ بدل سکتے ہیں۔ نقشبندی مجددی بزرگ فرماتے ہیں کہ زبان کی حفاظت دل ہی کی حفاظت ہے، اور جو اپنی زبان کو خیر کا عادی بنا لے، اُس کی صحبت لوگوں کے لیے ٹھنڈی چھاؤں بن جاتی ہے، دوری کا سبب نہیں بنتی۔
ایک چھوٹا قدم: کل چائے کی مجلس میں جانے سے پہلے ایک بات دل میں تیار رکھیں، کسی ساتھی کے کام کی تعریف یا کوئی کام کی خبر، اور جب گفتگو کسی کی برائی کی طرف مڑنے لگے، نرمی سے وہی بات چھیڑ دیں۔
