Questions of the Heartدل کے سوال
Home & Familyگھر اور خاندان

I work myself to exhaustion to provide for my family. Isn’t earning the money enough? Why should I also have to be emotionally involved at home?میں اپنے گھر والوں کے لیے تھک ہار کر کماتا ہوں۔ کیا پیسہ کما کر لانا ہی کافی نہیں؟ مجھے گھر میں جذباتی طور پر بھی کیوں شامل ہونا پڑے؟

Earning is not a small thing. A man who works himself to exhaustion so that his family can eat in dignity is carrying real weight, and not a drop of that sweat is lost with Allah. But provision is one half of what a home needs from you. The other half costs no extra hours, only a small turning of the heart toward home.

Look at how Allah describes the purpose of marriage. He does not mention income at all.

“And among His signs is that He created for you mates from among yourselves, that you may find rest in them, and He placed between you love and mercy.”

Qur’an, Ar-Rum 30:21 · meaning

The aim He names is rest, love and mercy. Provision is the walls and the roof; this is the light inside the rooms. A family can have every comfort and still feel cold, and a simple household can feel like a garden, because the one who leads it turned his heart toward them as well as his hands.

And the Prophet, peace be upon him, who carried the weight of an entire ummah, still measured a man by his home and not only by his labour.

“The best of you is the best to his family, and I am the best of you to my family.”

The Prophet (peace be upon him), Jami’ at-Tirmidhi (3895) · meaning

He did not say the best of you earns the most. He set the measure inside the four walls, where only your own people can see it. Those who study fathers and children have arrived at the same thing from another direction: a father’s warmth and presence shape a child’s inner wellbeing beyond what his income alone can give. Your children will remember that you were there in heart, and that memory stays with them long after any meal is forgotten.

You are not being asked to become a different man overnight, and your hard work has not gone unnoticed. Only let a little of that same devotion reach the doorway: a smile, a question about their day, a few minutes of listening. That is not extra work. It is the harvest of the work you are already doing.

One small step: Tonight, when you walk through the door, before anything else, put your things down and give your family your full attention for five unhurried minutes, asking each one how their day really was.

کمانا کوئی معمولی بات نہیں۔ صبح سویرے نکل جانا، دن بھر محنت کرنا اور شام کو تھکے بدن کے ساتھ کچھ لے کر لوٹنا، یہ اپنی جگہ محبت ہی کی ایک صورت ہے، اور اللہ کے ہاں پسینے کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن گھر کو آپ سے جو کچھ درکار ہے، رقم اُس کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ ایسا ہے جس پر کوئی اضافی وقت خرچ نہیں ہوتا، صرف دل کا رُخ گھر کی طرف کرنا پڑتا ہے۔

دیکھیے، اللہ نے میاں بیوی کے رشتے کا مقصد بیان فرمایا تو کمائی یا خرچے کا ذکر ہی نہیں کیا۔

”اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن کے پاس چین پاؤ، اور اُس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔“

قرآن، سورۃ الروم ۳۰:۲۱ · مفہوم

مقصد کیا بتایا؟ چین، محبت اور رحمت۔ روٹی سے دیواریں اور چھت بنتی ہیں، اور محبت اُن دیواروں کے اندر کی روشنی ہے۔ ایک گھر میں ہر سہولت موجود ہو، پھر بھی وہ سرد رہ سکتا ہے، اور ایک سادہ سا گھر باغ لگتا ہے، اِس لیے کہ اُس کے سربراہ نے ہاتھوں کے ساتھ دل بھی گھر والوں کی طرف موڑ دیا۔ بچہ باپ کی جیب سے پہلے باپ کی توجہ مانگتا ہے، اور بیوی کمائی سے پہلے دو گھڑی کی بات چیت۔

اور آپ ﷺ نے، جن کے کندھوں پر پوری اُمّت کا بوجھ تھا، مرد کا پیمانہ باہر کے میدان میں نہیں رکھا۔

”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“

نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۳۸۹۵) · مفہوم

یہ نہیں فرمایا کہ تم میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ کماتا ہے۔ پیمانہ گھر کی چہار دیواری میں رکھ دیا، جہاں آپ کے اپنے لوگوں کے سوا کوئی نہیں دیکھتا۔ جو لوگ باپ اور اولاد کے تعلق پر کام کرتے ہیں، وہ بھی دوسری طرف سے اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ باپ کی نرمی اور موجودگی بچے کے باطن کو اُس سے زیادہ سنوارتی ہے جتنا اکیلی آمدنی سنوار سکتی ہے۔ بچوں کو یاد یہ رہے گا کہ باپ دل سے موجود تھا، اور یہ یاد کسی کھانے سے کہیں زیادہ دیر تک ساتھ چلتی ہے۔

آپ سے یہ نہیں کہا جا رہا کہ راتوں رات کوئی اور آدمی بن جائیں، اور آپ کی محنت کسی کی نظر سے اوجھل بھی نہیں۔ بات صرف اِتنی ہے کہ اِسی محنت کا تھوڑا سا حصہ دروازے کے اندر بھی آ جائے۔ ایک مسکراہٹ، ایک سوال کہ دن کیسا گزرا، چند منٹ کا سننا۔ یہ الگ کوئی کام نہیں، یہ اُسی کام کا پھل ہے جو آپ پہلے سے کر رہے ہیں۔

ایک چھوٹا قدم: آج گھر پہنچ کر، کوئی اور کام ہاتھ میں لینے سے پہلے، سامان رکھ دیجیے اور پانچ منٹ بغیر جلدی کے گھر والوں کے پاس بیٹھ جائیے۔ ہر ایک سے پوچھیے کہ ”آج دن کیسا گزرا؟” اور خاموشی سے سُن لیجیے۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔