میں خادموں، ماتحت عملے اور اپنے سے کمتر لوگوں کے ساتھ بے صبری اور بے اعتنائی سے پیش آتا ہوں، اور مجھے بعد میں احساس ہوتا ہے۔ اسلام کمزوروں کے ساتھ سلوک پر اتنا زور کیوں دیتا ہے؟
Khadimon aur matehton ke saath sulook
بعد میں خیال آ جانا اور دل میں کھٹکنا ہی اِس بات کی دلیل ہے کہ ضمیر جاگ رہا ہے۔ اِس پر خود کو کوسنے کے بجائے یہ سمجھ لینا زیادہ کام کی بات ہے کہ اسلام اُس شخص کا پلڑا کیوں اِتنا بھاری رکھتا ہے جس کے پاس جواب دینے کا اختیار نہیں ہوتا۔
ماتحتوں کے ساتھ لہجے کی تیزی عام طور پر بدنیتی نہیں ہوتی۔ یہ کام کے دباؤ، جلدبازی اور ماحول سے چپکی ہوئی ایک عادت ہوتی ہے، جو سوچے سمجھے بغیر ہمیں ورثے میں مل جاتی ہے۔ آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اِس سختی سے منع نہیں فرمایا، بلکہ رشتے کا نام ہی بدل دیا۔ ماتحت نہیں،۔
”تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ نے تمہارے زیرِ دست کر دیا ہے۔ پس جو تم خود کھاتے ہو اُسی میں سے اُنہیں کھلاؤ، اور جو تم خود پہنتے ہو اُسی میں سے اُنہیں پہناؤ۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۳۰ / مسلم ۱۶۶۱a) · مفہوم
غور کیجیے، بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ جنہیں ہم اپنے سے نیچے سمجھ بیٹھتے ہیں، آسمان کے فیصلے میں مدد اور رزق اُنہی کے راستے ہم تک آتا ہے۔ اُن کے ساتھ نرمی کوئی احسان نہیں جو اوپر سے نیچے کیا جائے، یہ اپنی ہی روزی کی جڑ کو پانی دینا ہے۔
”تمہاری مدد اور تمہارا رزق تو تمہارے کمزوروں ہی کے سبب کیا جاتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابو داؤد (۲۵۹۴) · مفہوم
اور چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کے حق کی پہچان، اِسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ نسبت کی شرط ٹھہرا دیا۔
”جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچانے، وہ ہم میں سے نہیں۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابو داؤد (۴۹۴۳) · مفہوم
باہر کی دنیا میں جو لوگ اداروں کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ بھی اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی جگہ کا مزاج اور اعتماد لکھے ہوئے ضابطوں سے نہیں بنتا، صاحبِ اختیار کے رویّے سے بنتا ہے۔ اور آدمی کا اصل رویّہ سب سے کھل کر وہیں سامنے آتا ہے جہاں سامنے والا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یعنی جو بات اسلام نے رحمت کے طور پر سکھائی، وہ دانائی بھی ثابت ہوئی۔
ایک چھوٹا قدم: کل اپنے کسی خادم یا ماتحت کو وہی چیز پیش کیجیے جو آپ خود شوق سے کھاتے یا پیتے ہیں، ایک پیالی چائے یا کھانے میں سے کچھ، اور کام کہنے سے پہلے نام لے کر اُس کا حال پوچھ لیجیے۔
