میں نے سخت محنت کی اور آخرکار پیسہ اور اچھا مقام مل گیا، تو پھر اندر سے میں اب بھی اتنا خالی خالی کیوں محسوس کرتا ہوں؟
Paisa hai phir bhi dil khali
جو کیفیت آپ بیان کر رہے ہیں، یہ کسی خرابی کی علامت نہیں۔ آپ اُس مقام تک پہنچ گئے جس کے لیے برسوں محنت کی، اور پہنچ کر دل نے پوچھا، بس اتنا ہی؟ یہ سوال اُسی دل میں اٹھتا ہے جو زندہ ہو۔ بات دراصل یہ ہے کہ روح کی خوراک کچھ اور ہے۔ پیسہ، عہدہ، گاڑی، مکان، ان سے جسم کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں، دل کی پیاس ان سے نہیں بجھتی۔ تجوری بھر گئی، مگر جو خزانہ دل کو سیر کرتا ہے، وہ رکھا ہی کہیں اور گیا ہے۔
یہ راز رب نے خود بیان فرما دیا ہے۔
”وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کی یاد سے ان کے دل چین پاتے ہیں۔ سن لو! اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الرعد ۱۳:۲۸ · مفہوم
یعنی اطمینان مال کی مقدار میں نہیں، اللہ کی یاد میں رکھا گیا ہے۔ آدمی کتنا ہی کما لے، جب تک دل اپنے مالک سے جڑا نہ ہو، اندر ایک ان دیکھی تنگی باقی رہتی ہے۔ اس کیفیت کا نام بھی قرآن نے بتا دیا۔
”اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا، تو بے شک اس کے لیے ایک تنگ زندگی ہے۔“
قرآن، سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۲۴ · مفہوم
یہ ”تنگ زندگی“ صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ بھری جیب کے باوجود جو گھٹن اندر رہتی ہے، وہ بھی یہی ہے۔ اور یہ سزا نہیں، اشارہ ہے، کہ سکون اِس طرف ہے، اِدھر آ جاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے تو امیری کی تعریف ہی بدل دی۔
”مالداری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اصل مالداری تو دل کی مالداری ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۱۰۵۱) · مفہوم
تو اصل دولت بینک کے ہندسوں میں نہیں، دل کے غنا میں ہے۔ جس دل میں اللہ کی یاد اور اُس کے دیے پر شکر بس جائے، وہ تھوڑے میں بھی بادشاہ ہے، اور جو دل اِس یاد سے خالی ہو، وہ خزانوں پر بیٹھ کر بھی خالی رہتا ہے۔ عہدہ آپ کے ہاتھ میں رہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسے صرف اُس یاد سے جوڑنا ہے جو اندر کی پیاس بجھاتی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج رات سونے سے پہلے تین منٹ آنکھیں بند کر کے، دل ہی دل میں آہستہ آہستہ ”اللہ، اللہ“ کہیے، اور جو کچھ میسر ہے اُس پر شکر ادا کیجیے۔ چند دن میں خود محسوس ہوگا کہ یہی چھوٹی سی یاد اندر کی خالی جگہ بھرنے لگی ہے۔
