دل کے سوال

میں خود سے کہتا رہتا ہوں کہ مالی طور پر سیٹ ہو جاؤں تو پھر اللہ پر توجہ دوں گا۔ کیا تب تک دین کو مؤخر کرنا ٹھیک ہے؟

Pehle paisa phir deen ka khayal

یہ سوچ میں خوب سمجھتا ہوں۔ اس میں لاپروائی نہیں، ذمہ داری کا احساس ہے۔ آدمی چاہتا ہے کہ پہلے پاؤں جم جائیں، گھر کا نظام سنبھل جائے، پھر نظر اوپر اٹھائے۔ بات صرف ایک لفظ پر اٹکتی ہے، ”پھر“۔ ”پہلے سیٹ ہو جاؤں، پھر پوری توجہ سے دین کی طرف آؤں گا۔“ کبھی غور کیجیے، یہ ”پھر“ کہیں ٹھہرتا بھی ہے؟

سیٹ ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ جو رقم آج بہت لگتی ہے، ہاتھ آنے کے بعد وہی معمول بن جاتی ہے اور نظر اُس سے ذرا آگے چلی جاتی ہے۔ یہ کسی کی کمزوری نہیں، دل کی عادت ہے۔ جو شخص دنیا سے یہ سند ملنے کا انتظار کرے کہ ”ہاں، اب تم پورے ہو گئے“، اُسے یہ سند کبھی نہیں ملتی۔ یوں ”بعد میں“ چپکے سے ”کبھی نہیں“ بن جاتا ہے، اور فیصلہ کسی نے کیا بھی نہیں ہوتا۔

قرآن مال کو برا نہیں کہتا۔ وہ صرف یہ بتاتا ہے کہ مال اور اولاد کی مصروفیت توجہ کھینچ لیتی ہے اور آدمی کو پتا بھی نہیں چلتا۔

”اے ایمان والو، تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جو ہم نے تمہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرو، اِس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو وہ کہے، اے میرے رب، تُو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی۔“

قرآن، سورۃ المنافقون ۶۳:۹-۱۰ · مفہوم

آخری فقرے پر ذرا ٹھہریے۔ مانگ کیا ہے؟ تھوڑی سی مہلت۔ حساب کی گھڑی میں کوئی تنخواہ بڑھانے کی درخواست نہیں کرتا، سب یہی چاہتے ہیں کہ ایک موقع اور مل جائے اور آغاز ہو جائے۔ دین آپ سے یہ نہیں کہتا کہ پہلے سب کچھ ٹھیک کر لو، پھر آنا۔ وہ آج کا دل مانگتا ہے، اِسی ادھورے، مصروف اور دوڑتے ہوئے حال میں۔

اور بلاوا بھی ڈانٹ کے انداز میں نہیں، سوال کے انداز میں آیا ہے،

”کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم ہو جائیں؟“

قرآن، سورۃ الحدید ۵۷:۱۶ · مفہوم

”کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا؟“ اِس سوال میں کوئی آنے والی تاریخ نہیں ہے۔ وقت وہی ہے جو اِس وقت ہاتھ میں ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے یہی بات ایسے سانچے میں ڈھال دی جو ہمیشہ یاد رہے، پانچ چیزیں جو اَب موجود ہیں، اُنہیں پانچ حالتوں کے آنے سے پہلے سمیٹ لو۔

”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مال داری کو اپنی تنگ دستی سے پہلے، اپنی فرصت کو اپنی مصروفیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔“

نبی کریم ﷺ، المستدرک للحاکم (۷۸۴۶) · مفہوم

اب دیکھیے، اس فہرست میں جوانی ہے، صحت ہے، فرصت ہے۔ تینوں آج آپ کے پاس ہیں، اُسی زمانے میں جسے ہم ”ابھی نہیں“ کہہ کر آگے سرکاتے رہتے ہیں۔ تو دنیا میں پاؤں جمانے کی کوشش جاری رکھیے، کمائیے، منصوبہ بندی کیجیے، گھر والوں کے لیے محنت کیجیے۔ صرف ایک بات کا خیال رکھیے، دین کا پتا کسی ایسے مستقبل پر مت لکھیے جو خود جگہ بدلتا رہتا ہے۔ اللہ سے تعلق پر کوئی خرچ نہیں آتا اور یہ کسی حساب کتاب کے مکمل ہونے کا محتاج بھی نہیں، یہ اُسی زندگی میں سما جاتا ہے جو آپ آج گزار رہے ہیں۔

ایک چھوٹا قدم: آج، سب کچھ ٹھیک ہونے کا انتظار کیے بغیر، ایک ایسا چھوٹا سا عمل چن لیجیے جو مصروف دنوں میں بھی نہ چھوٹے، مثلاً دن کی ایک نماز کے بعد دو منٹ سکون سے ذکر، اور آج ہی سے شروع کر دیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔