کبھی سجدے میں مجھے لگتا ہے کہ میں ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جاؤں، اللہ کے قریب۔ جو قربت میں محسوس کرتا ہوں کیا وہ حقیقی ہے، اور میں اس کا تھوڑا سا حصہ اپنے عام دن میں کیسے ساتھ لے جاؤں؟
Sajde mein Allah ki qurbat
سجدے میں جو کیفیت آپ پر گزرتی ہے، وہ وہم نہیں۔ سجدہ وہی مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اور دل اس قرب کو پہچان لیتا ہے۔ اسی لیے جی چاہتا ہے کہ اٹھا ہی نہ جائے۔ بات یہ ہے کہ انسان جتنا جھکتا ہے، اتنا ہی بلند ہوتا ہے۔ پیشانی زمین پر آتی ہے اور روح اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اسی سجدے کی طرف بلایا ہے۔
”ہرگز نہیں، آپ اس کی بات نہ مانیے، اور سجدہ کیجیے اور قریب ہو جائیے۔“
قرآن، سورۃ العلق ۹۶:۱۹ · مفہوم
غور کیجیے، سجدے اور قرب کا ذکر ایک ہی سانس میں آیا ہے۔ جھکنا اور نزدیک ہونا دو الگ باتیں نہیں، ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے اس کا فائدہ بھی بتا دیا کہ یہ مانگنے کی گھڑی ہے۔
”بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، پس تم سجدے میں خوب دعا کیا کرو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۴۸۲) · مفہوم
اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اس قرب کا کچھ حصہ دن بھر ساتھ کیسے رہے۔ اس کا راستہ ذکر ہے۔ کیفیت کو پکڑ کر رکھنے کی کوشش کام نہیں دیتی، کیفیت اللہ کی مشیت سے آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ ہاں، زبان پر اس کا نام رہے تو تعلق قائم رہتا ہے۔ ایک کام سے دوسرے کام کی طرف بڑھتے ہوئے، انتظار کے لمحوں میں، اٹھتے بیٹھتے، آہستہ سے اس کا نام لیتے رہیے۔ دل کا قرار بھی اسی میں رکھا گیا ہے۔
”سن لو، اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو چین اور قرار نصیب ہوتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الرعد ۱۳:۲۸ · مفہوم
سجدہ وہ چشمہ ہے جس پر بیٹھ کر آپ سیراب ہوتے ہیں، اور ذکر وہ برتن ہے جس میں وہی پانی بھر کر آپ دن بھر ساتھ رکھتے ہیں۔ جب پیاس لگے، ایک گھونٹ لے لیجیے۔ اس طرح دن سجدے سے کٹتا نہیں، جڑا رہتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج ذکر کا ایک لفظ چن لیجیے، مثلاً ”اللہ“، اور جب بھی ایک کام چھوڑ کر دوسرا شروع کریں، ایک بار دل ہی دل میں وہ لفظ کہہ لیجیے۔
