میرا دل پتھر جیسا سخت محسوس ہوتا ہے۔ میں قرآن پڑھتا ہوں مگر وہ مجھے اُس طرح متاثر نہیں کرتا جیسے کرنا چاہیے۔ کیا مسلسل ذکر واقعی ایک ٹھنڈے پڑ چکے دل کو نرم کر سکتا ہے؟
Patthar dil aur zikr ki narmi
جس دل پر واقعی پتھر پڑ جاتا ہے، وہ اپنی سختی کو محسوس ہی نہیں کرتا، نہ اُس پر بےچین ہوتا ہے۔ آپ کو سختی محسوس ہو رہی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ دل نرم ہو جائے۔ یہ دل کے مر جانے کی علامت نہیں، جاگتے رہنے کی علامت ہے۔ سو بات یہیں سے شروع کیجیے، مایوسی سے نہیں۔
دل باغ کی زمین جیسا ہے۔ لمبے خشک موسم میں یہ چٹخ جاتی ہے، سخت پڑ جاتی ہے، اور دیکھنے میں یوں لگتا ہے کہ اب یہاں کچھ نہیں اُگے گا۔ مگر مالی ایسی زمین چھوڑ نہیں دیتا۔ وہ پانی دیتا ہے، پھر دیتا ہے، اور وہی پانی اُس سختی کو ڈھیلا کر دیتا ہے جو نہ ٹوٹنے والی لگتی تھی۔ دل کو زندہ کرنے والا پانی اللہ تعالیٰ نے خود بتا دیا ہے۔
”اللہ نے بہترین کلام اتارا، ایک ایسی کتاب جو باہم ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی ہے، جس سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر اُن کی کھالیں اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ الزمر ۳۹:۲۳ · مفہوم
دیکھیے، آیت نے نرمی کو کس چیز کے ساتھ جوڑا ہے، اللہ کے ذکر کے ساتھ۔ تو جب قرآن پڑھتے ہوئے وہ کیفیت نہیں بنتی جو آپ چاہتے ہیں، اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اندر کچھ ختم ہو گیا۔ زمین پیاسی ہے، ابھی سیر نہیں ہوئی۔ دن بھر کے عام لمحوں میں زبان کو اُس کے نام سے تر رکھیے، آہستہ، بغیر زور لگائے، اور پانی اپنا کام کرتا رہے گا۔
اور اگر جی میں یہ خدشہ ہو کہ بہت دیر ہو گئی، تو سنیے، اللہ اپنے بندوں کو کس انداز سے واپس بلاتا ہے۔
”کیا اہلِ ایمان کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر کے آگے جھک جائیں؟“
قرآن، سورۃ الحدید ۵۷:۱۶ · مفہوم
یہ ڈانٹ نہیں ہے۔ یہ دروازہ کھلا رکھنے کا انداز ہے، اور اِس سوال میں دراصل بلاوا ہے کہ وقت آ گیا، آ جاؤ۔ ذکر کو مسلسل بارش کی طرح رکھیے، بغیر جلدی کیے، روز کا روز، اور نتیجہ اللہ کے حوالے کر دیجیے۔ جو زمین آج پتھر لگتی ہے، وہ زمین ہی ہے، اور بہار اللہ کے اختیار میں ہے۔
ایک بات اِس نقشبندی مجددی سلسلے میں مزید سکھائی جاتی ہے۔ دل ایک آئینہ ہے، اپنے رب کے نور کو تھامنے کے لیے بنایا گیا ہے، اور اِسے دھندلا صرف کوئی بڑی لغزش نہیں کرتی۔ وہ بکھرے ہوئے تعلقات بھی کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی محبتیں جو دل کو تھوڑا تھوڑا اِدھر اُدھر کھینچتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ کوئی عکس صاف نہیں رہتا۔ اِس آئینے کا بہترین صیقل ہمارے آقا ﷺ کی سنت ہے، اور وہ بھی سب سے سادہ باتوں میں، کھانے کا انداز، سلام کرنے کا انداز، سوتے وقت کا عمل، اللہ کی طرف رُخ کرنے کا طریقہ۔ آج ایک سنت اپنا لیجیے، آپ خود دیکھیں گے کہ آئینہ کچھ صاف ہوا، اور جیسے جیسے آئینہ صاف ہوتا ہے، مزاج بھی نرم پڑتا جاتا ہے۔ ذکر پانی ہے، سنت صیقل، اور اِن دونوں کے بیچ وہ کام اللہ کر دیتا ہے جو ہماری کوشش اکیلے کبھی نہ کر پاتی۔
ایک چھوٹا قدم: آج قرآن کھولنے سے پہلے ایک منٹ آنکھیں بند کر کے دل میں دھیرے دھیرے ”اللہ، اللہ” کہیے، پھر تلاوت شروع کریں۔
