میں اپنے بچوں پر اس لیے سختی کرتا ہوں کہ مجھے ان سے محبت ہے اور میں چاہتا ہوں وہ کامیاب ہوں، مگر اب وہ میرے قریب آنے کے بجائے مجھ سے ڈرنے لگے ہیں۔ کیا میں نے سختی کو محبت سمجھ لیا ہے؟
Bachon par sakhti ya mohabbat
جو بات آپ کہہ رہے ہیں، یہ بہت گھروں کی بات ہے، اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ باپ ہونے میں ناکام رہے۔ سختی اور محبت ایک دوسرے کی دشمن نہیں، لیکن جہاں سختی اکیلی رہ جائے اور ساتھ نرمی نہ ہو، وہاں بچے کے دل پر وہ دیوار بن کر بیٹھ جاتی ہے۔ بچہ ہماری دلیل بعد میں سمجھتا ہے، ہمارا لہجہ اور چہرہ پہلے پڑھ لیتا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے رحم کو نرم مزاجی نہیں کہا، تربیت کی جڑ کہا۔ ایک بار آپ ﷺ اپنے ننھے نواسے کو پیار کر رہے تھے کہ ایک صاحب نے کہا، میرے تو دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما۔ آپ ﷺ نے صاف بات فرما دی۔
”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اُس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۹۹۷)؛ صحیح مسلم (۲۳۱۸) · مفہوم
اور نرمی کے بارے میں آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ کسی معاملے سے کچھ کم نہیں کرتی، بلکہ اُس میں حسن پیدا کر دیتی ہے۔ ڈر پر چلنے والا گھر باہر سے منظم دکھائی دیتا ہے، اندر سے سرد ہوتا ہے۔
”نرمی جس چیز میں بھی ہو اُسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے نکال لی جائے اُسے بدنما کر دیتی ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۹۴a) · مفہوم
اور دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے خود اپنے رسول ﷺ کے بارے میں کیا فرمایا، جن کا سارا کام دلوں کو جوڑنا تھا۔ لوگ اُن کے گرد رحمت ہی کے سبب جمع رہے، اور اللہ نے یہ بھی بتا دیا کہ سختی ہوتی تو نتیجہ کیا نکلتا۔
”پس اللہ ہی کی رحمت کے باعث آپ اُن کے لیے نرم ہو گئے، اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بکھر جاتے۔“
قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۱۵۹ · مفہوم
تو بدلنے کی ضرورت آپ کی محبت میں نہیں، اُس کے اظہار کی ایک عادت میں ہے، اور عادت بدل جاتی ہے۔ اپنی توقعات صاف رکھیے، بچے صاف حد بندی میں ہی سنبھلتے ہیں۔ بچوں کی نشوونما پر کام کرنے والے بار بار یہی بات کہتے ہیں کہ نرمی کے ساتھ معقول اور مستقل توقعات بچے میں خود اعتمادی اور صلاحیت بڑھاتی ہیں، اور خوف اور بہت زیادہ کنٹرول سے یہی چیزیں کم ہو جاتی ہیں۔ معیار وہی رکھیے، بس لہجہ نرم کر لیجیے۔ قربت لوٹ آتی ہے، اور اندازے سے جلد لوٹ آتی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج تھوڑی دیر اپنے بچے کے پاس بیٹھیے، بغیر ٹوکنے اور بغیر نصیحت کے، صرف یہ پوچھنے کے لیے کہ دن کیسا گزرا، اور اُس کا جواب سن لیجیے۔
