جب مجھے ذرا سا فخر محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا، یا میں مسجد میں گھر سے کچھ لمبی نماز پڑھ لیتا ہوں، تو کیا میری عبادت ریا سے برباد ہو گئی؟
Logon ke samne namaz aur riya
نماز کے دوران جو خیال بن بلائے آ کر گزر جاتا ہے، وہ عبادت کو تباہ نہیں کرتا۔ فیصلہ اُس نیت پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آپ کھڑے ہوئے تھے، اور یہی فرق سمجھ میں آ جائے تو آدھا خوف خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
نماز آپ نے اللہ کے لیے شروع کی، نیت خالص تھی۔ درمیان میں دل کے کسی کونے سے یہ خیال گزر گیا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں، یا آج نماز ذرا لمبی ہو گئی۔ ریا یہ نہیں ہے۔ ریا وہ ہے جو عمل کی جڑ میں بیٹھی ہو، یعنی آدمی کام ہی اس لیے کرے کہ لوگ داد دیں۔ جو خیال آیا اور آپ نے اسے دل سے قبول نہ کیا، بلکہ برا جانا، وہ آپ کی نماز نہیں کھاتا۔
قرآن نے عبادت کا معیار ایک ہی جملے میں کھول دیا ہے۔
”پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“
قرآن، سورۃ الکہف ۱۸:۱۱۰ · مفہوم
یعنی نگاہ رب سے ملاقات پر ہو۔ آپ کی نگاہ اُسی طرف ہے، اسی لیے تو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس ملاقات میں کوئی اور شریک نہ ہو جائے۔
نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں ہمیں متوجہ فرمایا، تاکہ ہم چوکنے رہیں، مایوس نہ ہوں۔
”مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے۔” پوچھا گیا: شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا: “ریا، یعنی دکھاوا۔“
نبی کریم ﷺ، مسند احمد (۲۳۶۳۰) · مفہوم
یہ اس لیے نہیں فرمایا کہ ہم خود کو مجرم سمجھ کر بیٹھ رہیں، بلکہ اس لیے کہ دل کا رخ درست رہے۔ ایک اور حدیث میں بتا دیا گیا کہ اصل خطرہ کہاں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جن لوگوں کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا، ان میں ایک وہ شخص ہو گا جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن پڑھا، مگر نیت یہی تھی کہ لوگ اسے “عالم” اور “قاری” کہیں۔ اُسے سامنے لایا جائے گا، وہ کہے گا، “میں نے تیرے لیے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لیے قرآن پڑھا۔” تب اللہ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا:
”تُو نے جھوٹ کہا۔ تُو نے علم اس لیے سیکھا کہ کہا جائے: یہ عالم ہے، اور تُو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے: یہ قاری ہے، سو کہہ دیا گیا۔“
اللہ تعالیٰ، نبی کریم ﷺ کی حدیث میں، صحیح مسلم (۱۹۰۵a) · مفہوم
غور کیجیے، اس کی خرابی کوئی گزرتا ہوا خیال نہ تھی۔ خرابی یہ تھی کہ سارا کام ہی داد کے لیے کیا، مقصود ہی لوگوں کی زبان تھی، اور جو مانگا تھا وہ دنیا میں مل گیا، آگے کچھ باقی نہ رہا۔ آپ کا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ آپ اللہ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، اور بیچ میں آنے والا خیال آپ کو خود بے چین کر دیتا ہے۔
دل کے اوپر سے خیال گزر جانا انسان کی فطرت ہے۔ پکڑ اس پر نہیں کہ خیال آیا، پکڑ اس پر ہے کہ آدمی نے اس خیال کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ باغ کے اوپر سے پرندے گزرتے رہتے ہیں، حساب اس کا ہے کہ کس پرندے کو گھونسلا بنانے کی اجازت دی گئی۔
تو جب دل میں ہلکی سی لہر اٹھے کہ کوئی دیکھ رہا ہے، اس سے لڑیے مت، اور اپنے آپ کو ملامت بھی نہ کیجیے۔ بس دھیرے سے دل کا رخ اللہ کی طرف پھیر لیجیے اور اندر ہی اندر کہہ دیجیے کہ اے میرے مالک، یہ نماز صرف تیرے لیے ہے۔ نماز لمبی کرنا، مسجد میں سکون سے ٹھہرنا، یہ اچھی عادتیں ہیں، خوف کے مارے انہیں چھوڑیے مت۔ صرف دل کی سوئی ہر بار اللہ پر لوٹاتے رہیے۔
ایک چھوٹا قدم: ہر نماز کی تکبیرِ تحریمہ سے پہلے، دل میں ایک لمحہ ٹھہر کر آہستہ سے کہہ لیجیے: “یا اللہ، یہ نماز صرف تیرے لیے” ، اور پھر نماز میں جب بھی کوئی دکھاوے کا خیال گزرے، بس یہی جملہ دل میں دہرا کر آگے بڑھ جائیے۔
