مجھے لگتا ہے کہ مجھے ہر طریقے سے اپنے حریفوں کو مات دینی چاہیے، اور ویسے بھی سب اصول توڑتے ہیں۔ کیا میں واقعی مکمل دیانتدار رہ کر بھی کاروبار میں چل سکتا ہوں؟
Karobar mein diyanat aur muqabla
بازار کی رفتار ایسی ہے کہ آدمی کو لگتا ہے، جو سیدھی راہ پر چلے گا وہ پیچھے رہ جائے گا۔ یہ خیال آج بہت لوگوں کے دل پر دستک دیتا ہے۔ مگر بات اس کے برعکس ہے۔ دیانتدار سوداگر ہارنے والا نہیں، اصل میں ٹکنے والا وہی ہے۔
ایک دن نبی کریم ﷺ عیدگاہ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ سامنے بازار اپنی پوری رونق میں تھا، خرید و فروخت کا وہی شور، وہی گہما گہمی جو ہر روز تمہارے سامنے رہتی ہے۔ آپ ﷺ خاموشی سے گزر نہیں گئے، تاجروں کو پکارا، اور جو اُس روز اُن سے فرمایا، وہ آج بھی جوں کا توں سامنے ہے۔
”حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ عیدگاہ کی طرف نکلے، تو آپ ﷺ نے لوگوں کو خرید و فروخت میں مصروف دیکھا۔ آپ ﷺ نے پکارا، اے تاجروں کی جماعت! لوگوں نے آپ ﷺ کی پکار پر لبیک کہا اور اپنی گردنیں اور نگاہیں آپ ﷺ کی طرف اٹھا لیں۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا، بےشک تاجر قیامت کے دن گناہگار اٹھائے جائیں گے، سوائے اُس کے جو اللہ سے ڈرے، نیکی کرے اور سچ بولے۔“
نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۱۲۱۰) · مفہوم
ذرا غور کرو کہ آپ ﷺ نے کیا نہیں فرمایا۔ یہ نہیں فرمایا کہ بازار کا حال ٹھیک ہے، اور نہ تمہارے اس اندیشے کو جھٹلایا کہ لوگ اصولوں میں نرمی کر لیتے ہیں، بلکہ وہی بات کھول کر رکھ دی۔ لیکن اسی ایک جملے میں نجات کا دروازہ بھی کھول دیا، اور اُس دروازے پر جو تین چیزیں رکھی گئیں، وہ عین وہی ہیں جن سے تمہیں نقصان کا ڈر ہے، یعنی اللہ کا خوف، نیک معاملہ اور سچی زبان۔ سو دیانتدار تاجر وہ بھولا آدمی نہیں جو بازار کو سمجھ نہ سکا، وہ تو وہی ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک سے سب سے الگ کر لیا، اور جہاں وہ کھڑا ہے، وہیں برکت بھی ٹھہری ہوئی ہے۔
اب رہ گیا یہ اندیشہ کہ اصول پر چلتے ہوئے رزق تنگ ہو جائے گا۔ کرایہ ہے، تنخواہیں ہیں، کئی گھر تمہارے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی جگہ اللہ تعالیٰ خود بات فرماتے ہیں، اور جہاں تمہیں دیوار دکھائی دیتی ہے، وہاں دروازہ رکھ دیتے ہیں۔
”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکل سے) نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“
قرآن، سورۃ الطلاق ۶۵:۲-۳ · مفہوم
رزق وہاں سے آتا ہے جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔ تمہارا حساب صرف اُن سودوں تک ہے جو نظر کے سامنے ہیں، اور اللہ اُن راستوں کو ترتیب دے رہا ہے جو ابھی تمہارے وہم میں بھی نہیں۔ حریفوں کو ہر قیمت پر پچھاڑ دینے کی جو آگ دل میں اٹھتی ہے، وہ دراصل ڈر سے پیدا ہوتی ہے، اور جہاں توکل آ جائے، وہ ڈر خودبخود بیٹھ جاتا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو کاروبار کے بارے میں یہی بات سمجھائی تھی۔
”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔ اللہ کا حلال کیا ہوا بچا کھچا (نفع) تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔“
قرآن، سورۃ ہود ۱۱:۸۵-۸۶ · مفہوم
یعنی تھوڑا نفع جو صاف اور حلال ہو، وہ اُس ڈھیر سے بہتر ہے جس میں کسی کا حق دبا ہوا ہو۔ اس کی گواہی دنیا میں بھی مل جاتی ہے۔ خود سوچو، برسوں تم کن دکانوں پر لوٹ کر جاتے ہو۔ اُنہی پر، جن کی بات پر بھروسا ہو۔ ایسا بھروسا خریدا نہیں جاتا، ایک ایک سچے سودے سے آہستہ آہستہ بنتا ہے۔ سو اطمینان سے کہو، ہاں، دیانت کے ساتھ کاروبار چلتا بھی ہے، اور اصل کامیابی کا راستہ یہی ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج اپنے کاروبار میں ایک ایسا معاملہ چن لو جہاں دل کہتا ہو کہ گاہک کو تھوڑا کم بتا کر فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، اور وہاں پورا سچ بول کر، پورا حق دے کر سودا کرو، اور دل میں کہو، ”یا اللہ، یہ نفع تیرے حوالے، تُو مجھے وہاں سے دے جہاں سے میرا گمان بھی نہیں۔“
