جب میں اپنی عبادت کا موازنہ کسی ایسے شخص سے کرتا ہوں جو مجھ سے کہیں کم نماز پڑھتا ہے تو مجھے روحانی طور پر اس سے آگے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ کیا یہ خاموش برتری مجھے نقصان دے رہی ہے؟
Khud ko doosron se behtar samajhna
یہ خیال ابھی چھوٹا ہے اور آپ نے اسے وقت پر پہچان لیا ہے، اصل کام کی بات یہی ہے، کیونکہ جو بات وقت پر پکڑ لی جائے وہ آسانی سے چھوڑی بھی جا سکتی ہے۔ اور یہ احساس کوئی انوکھا نہیں، پابندی سے نماز پڑھنے والوں کے دل میں بھی آ جاتا ہے۔ اس لیے گھبرانے کے بجائے اسے سمجھ لینا چاہیے۔
آپ کی بات کا حاصل یہ ہے کہ دل میں چپکے سے ایک ترازو رکھ لیا جاتا ہے اور اپنی عبادت دوسرے کے پلڑے کے سامنے تولی جانے لگتی ہے۔ خرابی اس میں نہیں کہ آپ کی عبادت کم ہے، خرابی یہ ہے کہ تولنا ہمارا کام ہی نہیں۔ کون کہاں کھڑا ہے، یہ پورا نقشہ صرف اللہ کے سامنے ہے، اور اسی لیے اس نے صاف منع فرما دیا۔
”پس تم اپنی پاکیزگی کے دعوے نہ کرو، وہی خوب جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔“
قرآن، سورۃ النجم ۵۳:۳۲ · مفہوم
غور کیجیے، اس میں ڈانٹ سے زیادہ ایک رعایت ہے۔ ترازو کبھی ہمارے ہاتھ میں تھا ہی نہیں، سو اسے رکھ دینے میں سراسر راحت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بھی بتا دیا کہ کسی کو ذرا سا حقیر جاننا دراصل کتنا بھاری پڑتا ہے۔
”کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۶۴a) · مفہوم
بزرگوں کا ایک قول ہے جو ہماری سوچ کا رخ ہی پلٹ دیتا ہے۔ اپنی کوتاہیوں پر رونے والا بندہ اس عبادت گزار سے اللہ کے زیادہ قریب ہو سکتا ہے جسے اپنی نمازوں پر ناز آ گیا ہو۔ کیونکہ وزن اعمال کی گنتی کا نہیں ہوتا، اُس دل کی حالت کا ہوتا ہے جو یہ اعمال پیش کر رہا ہے۔ تو عبادت کی کثرت بھی ایک عطا ہے، اور اسے سنبھالنے کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جھکی ہوئی اور شکر والی رہے۔
جو شخص آپ سے کم نماز پڑھتا ہے، وہ آپ سے نیچے نہیں۔ ہو سکتا ہے اللہ اسے کسی ایسے راستے سے اپنے قریب کر رہا ہو جو آپ کو دکھائی نہیں دیتا، کوئی اندر ہی اندر کا دکھ، کوئی چھپی ہوئی عاجزی، کوئی ایسی نیکی جس کی کسی کو خبر نہیں۔ اور آپ کی نماز، جو بجائے خود ایک نعمت ہے، اُس وقت تک سلامت ہے جب تک نظر جھکی رہے اور یہ شکر ساتھ رہے کہ پڑھنے کی توفیق ملی۔
اس لیے اعمال بھی رہنے دیجیے اور عاجزی کو ان کے ساتھ ساتھ چلنے دیجیے۔ جب مقابلے کا خیال آئے تو اسے دو چیزوں میں بدل دیجیے، ایک اپنے حصے پر شکر، اور دوسری اُس شخص کے لیے مختصر سی دعا۔ اس طرح نہ کچھ ضائع ہوتا ہے، اور وہ خیال آپ کے خلاف کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب دل میں کسی کے مقابلے میں آگے ہونے کا خیال آئے، اُسی شخص کے لیے دل ہی دل میں ایک دعا کر دیجیے، کہ اللہ اسے بلند کرے اور اس کی عبادت قبول فرمائے، اور اس کا ذکر کسی سے نہ کیجیے۔
