کیا واقعی امیر بننے کی خواہش رکھنا غلط ہے، یا ایک اچھا مسلمان سچے دل سے مال کی خواہش کر سکتا ہے؟
Amir banne ki khwahish galat hai
مال کی خواہش نہ گناہ ہے، نہ عیب۔ اسلام نے مال کو کہیں برا نہیں کہا، قرآن نے تو اسے ”خیر“ یعنی بھلائی کہہ کر پکارا ہے۔ خرابی مال میں نہیں، مال کی محبت کے دل پر قابض ہو جانے میں ہے۔ پانی کشتی کے نیچے رہے تو منزل تک پہنچا دیتا ہے، کشتی کے اندر آ جائے تو ڈبو دیتا ہے۔ دولت بھی ہاتھ میں رہے تو نعمت ہے، دل میں بیٹھ جائے تو بوجھ۔
نبی کریم ﷺ نے مالدار کی وہ صورت بیان فرمائی جس پر رشک کرنا روا ہے۔
”رشک صرف دو شخصوں پر ہے، ایک وہ جسے اللہ نے مال عطا کیا اور اس نے اسے حق کی راہ میں خرچ کیا، اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت (علم) عطا کی، پس وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے سکھاتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۷۳) · مفہوم
دیکھیے، رشک محض مال پر نہیں، مال کو حق کی راہ میں خرچ کر دینے پر ہے۔ اس لیے سچے دل سے مال مانگنا دراصل نیکی کا ایک وسیع میدان مانگنا ہے، جتنا زیادہ آئے گا، اتنا ہی زیادہ بانٹنے اور خیر کمانے کا موقع ملے گا۔ رب نے تو رزق کی تلاش کو عبادت کے ساتھ ہی جوڑ دیا ہے۔
”پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔“
قرآن، سورۃ الجمعہ ۶۲:۱۰ · مفہوم
حج جیسے پاکیزہ سفر میں بھی، جہاں دل سارا رب کی طرف لگا ہوتا ہے، حلال تجارت سے فضل تلاش کرنے کی کھلی اجازت دی گئی۔
”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۱۹۸ · مفہوم
صحابہ کرام میں کئی حضرات اپنے زمانے کے بڑے تاجر تھے، مگر مال نے ان کی اللہ سے قربت میں کمی نہ آنے دی، کیونکہ ان کے ہاتھ میں مال خادم رہا، آقا نہ بنا۔ اصل بات یہی ہے۔ سو دل کھول کر رزقِ حلال کی خواہش کیجیے، بس نیت سنبھلی رہے کہ یہ مال اللہ سے قریب کرے، دور نہ کرے، اور آپ کے ہاتھ سے مخلوق کا بھلا ہوتا رہے۔ ایسا مال خود ایک عبادت بن جاتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج مال کے لیے ایک نیت طے کر لیجیے، مثلاً ”یا اللہ، مجھے اتنا حلال مال دے کہ والدین کی خدمت اور کسی ضرورت مند کی مدد کر سکوں“، پھر اسے کاغذ پر لکھ کر سامنے رکھ لیجیے، تاکہ ہر کمائی کا رخ اسی طرف رہے۔
