دل کے سوال

نقشبندی حضرات ''خلوت در انجمن'' کی بات کرتے ہیں، یعنی ہجوم میں بھی اللہ کے ساتھ تنہا رہنا۔ مگر میرا دل بھلا اللہ کے ساتھ کیسے جُڑا رہ سکتا ہے جب میں سارا دن اجلاسوں، بازاروں اور ٹریفک میں دھنسا رہتا ہوں؟

Hujoom mein dil Allah ke saath

پہلی بات یہی سمجھ لیجیے کہ ”خلوت در انجمن” کوئی ایسا مقام نہیں جو دنیا چھوڑ کر پہاڑوں میں جا بیٹھنے سے ملتا ہو۔ نقشبندی بزرگوں نے یہ اصطلاح اِسی لیے رکھی کہ عام آدمی کی ساری عمر لوگوں کے درمیان گزرتی ہے، اور اللہ نے قربت کا دروازہ کام کرنے والے پر بند نہیں کیا۔ ظاہر میں بندہ لوگوں کے بیچ ہو اور باطن میں اپنے مولا کے حضور، بزرگ اِسی کو کہتے ہیں، دست بہ کار، دل بہ یار۔

قرآن نے جن بندوں کی تعریف فرمائی، وہ گوشہ نشین نہ تھے، بازار والے تھے، خرید و فروخت میں لگے رہنے والے، وہیں کھڑے جہاں آپ کھڑے ہیں،

”ایسے مرد کہ نہ تجارت اُنہیں غافل کرتی ہے، نہ خرید و فروخت، اللہ کی یاد سے۔“

قرآن، سورۃ النور ۲۴:۳۷ · مفہوم

یہ بازار کے لوگ تھے، کسی حجرے کے تارکِ دنیا نہیں۔ سودا بھی کرتے تھے، مگر دل میں پہلا درجہ تجارت کا کبھی نہ بنا۔ اِسی لیے جب اللہ کی یاد اور نماز کی پکار آتی، ترازو وہیں رکھ دیتے، بہی کھاتہ کھلا چھوڑ دیتے، اور حاضر ہو جاتے۔ آیت اُنہیں یہی شرف دے رہی ہے۔ بات یہ نہیں کہ وہ بازار سے بھاگ گئے، بات یہ ہے کہ بازار اُن کا مالک نہ بن سکا۔

اور یاد کرنے والوں کی تعریف قرآن نے ہر اُس حالت میں کی ہے جو ایک مصروف دن آدمی پر لے آتا ہے،

”وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے، اور بیٹھے، اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے۔“

قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۱۹۱ · مفہوم

کھڑے، بیٹھے، پہلو کے بل لیٹے، دن کی کوئی گھڑی ایسی نہیں جس میں یاد کا دروازہ بند ہو۔ اِنہی آیتوں کو ملا کر بزرگوں نے ”خلوت در انجمن” کا مضمون نکالا۔ جب دل ہر حالت میں اپنے رب کو یاد کر سکتا ہے، اور جب بازار والے ہی وہ لوگ ہیں جن کی رب نے تعریف فرمائی، تو آپ کا دفتر اور آپ کا راستہ اُس سے دوری کے مقام نہیں۔ دل کو خالی کمرہ نہیں چاہیے، دل کو ذکر کا ایک باریک دھاگا چاہیے جو سارے دن کے نیچے نیچے چلتا رہے، جیسے پُل کے نیچے دریا بہتا رہتا ہے، اوپر سے آمد و رفت کتنی ہی گزرے۔

اب سوال یہ ہے کہ اجلاسوں کے اِس تسلسل میں یہ دھاگا کیسے قائم رہے۔ طریقہ یہ ہے کہ ذکر کو تھوڑا تھوڑا اور بار بار رکھیے، بھاری اور کبھی کبھار نہیں۔ ایک ای میل سے دوسری ای میل کے درمیان زیرِ لب ایک بار ”سبحان اللہ”۔ سرخ اشارے پر ایک سانس کے ساتھ کلمۂ طیبہ۔ زبان خاموش ہو تو دل دھیرے دھیرے چلتا رہے، سانس کے آنے جانے کے ساتھ نام کی ایک لے بندھی رہے۔ عادت کے بننے پر جو تحقیق ہوئی ہے، وہ بھی اُسی بات کی تصدیق کرتی ہے جو اہلِ دل صدیوں سے کہتے آئے ہیں، کہ جو چیز نرمی کے ساتھ روز دہرائی جائے، وہ چپکے چپکے اندر بیٹھ جاتی ہے، یہاں تک کہ طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے، اور ایک دن کا ناغہ بنی ہوئی چیز کو توڑ نہیں دیتا۔ اللہ نے آپ سے یہی نرم کثرت مانگی ہے۔

”اے ایمان والو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو، اور صبح و شام اُس کی پاکی بیان کرو۔“

قرآن، سورۃ الاحزاب ۳۳:۴۱-۴۲ · مفہوم

صبح و شام کو اللہ نے دو کھونٹے بنا دیا، اور اِن کے درمیان کی مصروف گھڑیاں وہ سمندر ہیں جو آپ کو پار کرنا ہے، اور وعدہ یہ ہے کہ یاد رکھنے والا دل اِن میں ڈوبتا نہیں۔ سو مصروفیت کو اپنے اور اللہ کے درمیان دیوار نہ سمجھیے۔ نقشبندی راہ میں یہی وہ کھیت ہے جس میں قربت کی فصل اُگتی ہے۔ اِس راستے کا سفر اپنے ہی وطن کے اندر طے ہوتا ہے، گھر بار چھوڑنا نہیں پڑتا، خلوت انجمن ہی کے اندر مل جاتی ہے، اور اللہ کے ساتھ حضور کوئی دور کی منزل نہیں جو برسوں بعد ہاتھ آئے، وہ نقد سرمایہ ہے جو دل کو جاگتا رکھنے والے کے ہاتھ میں رہتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: کل جب آپ ٹریفک میں ہوں یا کسی اجلاس کے انتظار میں بیٹھے ہوں، صرف دس سانسوں تک دل ہی دل میں ”اللہ” کا نام دہرائیے، بغیر کسی کو خبر ہوئے، اور دیکھیے کہ ہجوم کے بیچ بھی ایک لمحے کے لیے آپ اُس کے ساتھ اکیلے ہو گئے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔