اگر یہ دنیا اتنی عارضی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اس کی اچھی چیزوں سے بالکل بھی لطف نہیں اٹھانا چاہیے؟
Dunya ki nemat se lutf uthana
جواب صاف ہے: نہیں۔ دنیا کے عارضی ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ کی دی ہوئی پاکیزہ چیزوں سے منہ موڑ لیا جائے۔ دین آپ سے یہ نہیں کہتا کہ اچھا کھانا چھوڑ دو، ستھرا لباس نہ پہنو، یا حلال خوشیوں سے کترا کر زندگی گزارو۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہ چیزیں ہاتھ میں رہیں، دل میں بس نہ جائیں۔
قرآن نے اس غلط فہمی کو بہت واضح انداز میں دور کر دیا ہے:
”فرما دیجیے، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرمائی، اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو (کس نے حرام کیا)؟“
قرآن، سورۃ الاعراف ۷:۳۲ · مفہوم
سوال کے انداز ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان نعمتوں کو ٹھکرانا اللہ کے ہاں کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ اچھا کھانا، سلیقے کا گھر، صاف لباس، اہل و عیال کی جائز خوشیاں، یہ سب اُسی کی سجائی ہوئی چیزیں ہیں جو اُس نے آپ کے ہاتھ میں دی ہیں۔ انہیں شکر کے ساتھ برتنا خود ایک عبادت ہے۔
ہمیں انکار نہیں، بےنیازی سکھائی گئی ہے۔ زہد کبھی یہ نہ تھا کہ دنیا ہاتھ سے نکل جائے، زہد یہ ہے کہ دنیا دل سے نکل جائے۔ خوبصورت چیزیں آپ کے پاس ہوں تو کوئی حرج نہیں، شرط یہ ہے کہ آپ اُن کے قبضے میں نہ ہوں۔ یہی توازن قرآن نے ایک ہی جملے میں رکھ دیا ہے:
”اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اُس میں آخرت کے گھر کی طلب کر، اور دنیا سے اپنا حصہ (بھی) نہ بھول، اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا، اور زمین میں فساد مت چاہ۔“
قرآن، سورۃ القصص ۲۸:۷۷ · مفہوم
غور کیجیے، آخرت کی طلب اور دنیا کا حصہ، دونوں ساتھ ساتھ رکھے گئے ہیں، ایک دوسرے کے مقابل نہیں۔ جو شخص نعمت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دینے والے کا شکر بھی ادا کرتا ہے، اُس کا راستہ اُس شخص سے زیادہ سیدھا ہے جو نعمت کو ٹھکرا کر دل میں کھٹک رکھتا ہے۔ اور جب بندے پر اللہ کی عطا کی رونق نظر آتی ہے تو یہ منظر اُسے پسند ہے:
”بے شک اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر (اور رونق) دیکھے۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ترمذی (۲۸۱۹) · مفہوم
تو کھائیے، پہنیے، حلال خوشیوں سے دل بہلائیے۔ بس ہر نعمت کو شکر کا ایک دروازہ بنا لیجیے، تاکہ عطا آپ کو دینے والے کی طرف لے جائے، اُس کی جگہ نہ لے بیٹھے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب کوئی اچھی چیز کھانے، پینے یا پہننے لگیں، تو تین لمحے ٹھہر کر کہیے، ”الحمدللہ“، تاکہ لطف اور شکر ایک ساتھ آئیں۔
