دل کے سوال

میں اپنی نمازیں، صدقات اور روزے گنتا رہتا ہوں اور اس ڈھیر پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ کیا نیکیوں کا بڑا ڈھیر خودبخود مجھے بہتر انسان بنا دیتا ہے؟

Nekiyan ginna aur dil ka fakhar

نمازیں، صدقات اور روزے، یہ سب بڑی نعمت ہیں، اور اللہ نے توفیق دی ہے تو اسی سے مانگتے رہیے کہ سلسلہ چلتا رہے۔ آپ کا سوال گنتی کا ہے، سو بات وہیں سے شروع کریں کہ عمل کا وزن اصل میں کہاں رکھا جاتا ہے۔

ایک بات ہے نیکیاں گِن کر ڈھیر لگا لینا، اور دوسری بات ہے ان نیکیوں سے دل کا نرم اور روشن ہو جانا۔ اللہ کے ہاں قدر ڈھیر کی اونچائی کی نہیں، اُس دل کی ہے جس سے یہ نیکیاں نکل رہی ہیں۔ آقا ﷺ نے یہ بات کھول کر بیان فرما دی:

”بےشک اللہ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کو، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، صحیح مسلم (۲۵۶۴b) · مفہوم

اعداد کا انبار خزانے کی گنتی جیسا ہے، مگر اصل دولت وہ کیفیت ہے جو عمل کے وقت دل پر اترتی ہے۔ ایک سجدہ جس میں آنکھ بھیگ گئی، ایک لقمہ جو چپکے سے کسی کو دے دیا، رب کے پیمانے میں سو خشک اعمال سے بھاری پڑ جاتا ہے۔ اس لیے گنتی کو نہیں، دل کے تعلق کو بڑھنے دیجیے۔

اور فخر کی جو لہر کبھی کبھار دل میں اٹھتی ہے، اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ نفس کی پرانی عادت ہے، آہستہ آہستہ سدھر جاتی ہے۔ قرآن نے بزرگی کا معیار ایک ہی جملے میں طے کر دیا، اور وہ ڈھیر نہیں، تقویٰ ہے:

”بےشک تم میں سب سے زیادہ باعزت اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔“

قرآن، سورۃ الحجرات ۴۹:۱۳ · مفہوم

تو بات صاف ہے۔ ڈھیر خودبخود آدمی کو بہتر نہیں بناتا، بہتر وہ عاجزی بناتی ہے جو نیکی کر لینے کے بعد بھی دل کو جھکا رکھے۔ عمل جتنا بڑھے، سر اتنا ہی نیچے آئے، کہ ”یہ سب تیری توفیق تھی، میرا اس میں کیا۔“ ہمارے سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کی ساری محنت بھی اسی ایک نکتے پر ہے، کہ عمل بڑھے تو ساتھ عاجزی بھی بڑھے۔

ایک چھوٹا قدم: آج جو نیکی کریں، اسے گنتی میں جوڑنے کے بجائے دل میں فوراً کہہ لیجیے، ”یا اللہ، یہ تیری عطا تھی، اسے قبول فرما اور میری کوتاہی معاف کر۔“ ایک بار یہ کہہ لینا کافی ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔