میرے والد سرد اور دور دور رہتے تھے، اور مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ویسا ہی ہوتا جا رہا ہوں۔ کیا میں بس وہی دہرانے کے لیے بنا ہوں جو مجھے ملا؟
Baap jaisa sard rawaiya dohra raha
آپ کو یہ بات محسوس ہو رہی ہے اور کھٹک بھی رہی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ جو آدمی واقعی سرد ہو، اُسے تو کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اِس لیے اِس بےچینی کو مایوسی کا سبب نہ بنائیے، ایک دوسرے باپ کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے۔
گھر میں جو رنگ ڈھنگ آپ کو ملا، وہ سیکھی ہوئی چیز ہے۔ بچپن میں جو ماحول ملتا ہے، اُس کی عادتیں خود بخود اُتر آتی ہیں، مگر یہ کوئی لکھی ہوئی تقدیر نہیں کہ ساری عمر اِسی پر گزارنی پڑے۔ جو سیکھا جا سکتا ہے، وہ اللہ کے فضل سے بھلایا بھی جا سکتا ہے اور اُس کی جگہ کچھ اور سیکھا بھی جا سکتا ہے۔ آپ کے والد نے وہی آگے بڑھایا جو اُنہیں ملا تھا، غالباً اُنہیں خود اتنی نرمی نصیب نہ ہوئی کہ اُس کا سلیقہ آتا۔ یہ آپ کے گلے کا طوق نہیں، بس ایک چراغ ہے جو اُن کے گھر میں نہ جل سکا اور اب جلانے کے لیے آپ کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ایک اصول بیان فرمایا ہے، جو وہاں ایک پوری قوم کے حال کے بارے میں آیا ہے، کہ ظاہری حال باطن کے پیچھے چلتا ہے۔
”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے باطن کو نہ بدل لیں۔“
قرآن، سورۃ الرعد ۱۳:۱۱ · مفہوم
اِس آیت کے ساتھ ایک تنبیہ بھی جُڑی ہوئی ہے، کہ جو لوگ اپنے اندر کی خوبی خود چھوڑ بیٹھیں، اُن کے حال سے وہ نعمت بھی رخصت ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ ظاہر باطن کے تابع ہے، اور حال دل کے پیچھے چلتا ہے۔ جب پوری قوموں کا معاملہ اللہ نے اِسی اصول پر رکھا ہے، تو ایک باپ کے دل میں نرمی کا آ جانا بھی اُس کے ہاں بےقدر نہیں۔ آپ اپنے ماضی کے قیدی نہیں، اپنے گھر میں نئی روایت کی بنیاد آج سے رکھ سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔
”تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔“
نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۱۹۷۵) · مفہوم
اچھا اخلاق صرف اُنہی کا حصہ نہیں جو اِسے لے کر پیدا ہوں، یہ کمایا جاتا ہے، زبان کی طرح سیکھا جاتا ہے اور پانی کی طرح قطرہ قطرہ جمع ہوتا ہے۔ ہمارے اکابر نے، امام غزالی نے بھی، صاف کہا ہے کہ اگر اخلاق بدلتے ہی نہ ہوتے تو نصیحت، تربیت اور ریاضت سب بےکار ٹھہرتیں، اور اخلاق سنوارنے کے لیے نبی کریم ﷺ کو بھیجا ہی نہ جاتا۔ اخلاق بنتے ہیں، اِسی لیے ہمیں بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اپنے آس پاس دیکھیے تو یہ ہوتا نظر آتا ہے کہ ایک باپ اپنے گھر میں وہ گرم جوشی پیدا کر لیتا ہے جو خود اُسے کبھی نہ ملی، اور اُس کے بچے اُس اپنائیت میں پلتے ہیں جو اُس نے بالکل شروع سے سیکھی تھی۔ محبت بھی ایک ہنر ہے، ایک مسکراہٹ، ایک شفیق ہاتھ اور ایک توجہ بھری نگاہ سے آہستہ آہستہ آ جاتا ہے۔ اور جب اولاد اپنے باپ کو سیکھتے ہوئے دیکھتی ہے، تو یہ منظر خود اُن کے لیے عمر بھر کا سبق بن جاتا ہے۔ جسے ہم اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھتے ہیں، دین نے اُسے ہمیشہ دلوں کے پھیرنے والے کی رحمت کہا ہے، جو سچے طالب کو وہیں نہیں چھوڑتا جہاں سے وہ چلا تھا۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب آپ اپنے بچے کے پاس سے گزریں، ذرا رُک کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھیں اور مسکرا کر صرف اتنا کہہ دیں کہ ”مجھے تم پر بہت پیار آتا ہے“۔ نئی روایت کی پہلی اینٹ یہی ہے۔
