دل کے سوال

جب میں اپنے بچوں کی اصلاح کرتا ہوں تو کبھی چلّاتا ہوں یا ہاتھ اٹھا دیتا ہوں، خود کو یہ کہہ کر کہ یہ ان کی بھلائی کے لیے ہے۔ کیا کوئی نرم راستہ ہے جو انہیں پھر بھی سکھا دے؟

Bachon ko marna ya pyar se samjhana

آواز بلند ہوتی ہے تو اِس لیے نہیں کہ دل میں سختی ہے، بلکہ اِس لیے کہ فکر ہے کہ بچہ سنور جائے۔ یہ فکر اپنی جگہ درست ہے، سوال صرف طریقے کا ہے۔ اونچی آواز اور ہاتھ کے سوا بھی ایک راستہ ہے، اور تجربہ بتاتا ہے کہ وہ زیادہ گہرا اثر کرتا ہے۔

بچوں کی تربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بچپن سے دس برس تک آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے۔ اِن دس برسوں میں بچوں سے جو کچھ ہوتا ہے، سب ہوا ہوگا، چیزیں گریں، کام بھولے، کہیں دیر ہوئی۔ اُنہوں نے اپنا مشاہدہ اِن لفظوں میں بیان کیا۔

”میں نے دس سال آپ ﷺ کی خدمت کی، مگر آپ نے کبھی ایک بار بھی مجھ سے یہ نہ کہا کہ تُو نے یہ کیوں کیا، یا فلاں کام کیوں نہ کیا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (۶۰۳۸) · مفہوم

دس برس، اور ایک بار بھی شکایت نہیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ وہی بچہ اپنے زمانے کی سب سے باادب ہستیوں میں شمار ہوا۔ معلوم ہوا کہ نرمی کمزوری نہیں، اور نہ اِس سے بچہ بگڑتا ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اِس کی وجہ بتا دی۔

”نرمی جس چیز میں بھی ہو، اُسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۹۴a) · مفہوم

بچے کو دینے کی سب سے قیمتی چیز مال نہیں، ادب ہے۔ مال خرچ ہو جاتا ہے، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں، مگر جو ٹھہراؤ اور سلیقہ ہم اُس کے دل میں رکھ دیتے ہیں، وہ آگے اُس کی اپنی اولاد تک پہنچتا ہے۔ اہلِ علم نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر غور کرتے ہوئے یہی بات دہرائی ہے کہ کوئی باپ اپنی اولاد کو اچھے ادب سے بہتر تحفہ نہیں دے سکتا۔ یہ بات جس روایت میں آئی ہے، اُس کی سند کمزور ہے، اِس لیے ہم اِسے حدیث کے طور پر پیش نہیں کرتے، صرف ایک درست نصیحت کے طور پر لیتے ہیں، اور اِس کا مفہوم ہر گھر کا تجربہ ہے۔

بچے کان سے کم اور آنکھ سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اونچی آواز میں سبق دیا جائے تو بچے کو سبق کم اور خوف زیادہ یاد رہتا ہے۔ ڈانٹ سے وقتی طور پر بات بن جاتی ہے، مگر برسوں بعد وہی ڈانٹ ضد بن کر سامنے آتی ہے۔ اِس کے برعکس جب آواز دھیمی ہو اور ہم بچے کی سطح پر جھک کر بات کریں تو بات دل میں اترتی ہے اور جڑ پکڑ لیتی ہے۔ جس ضبط کی ہمیں تلاش تھی، وہ اِسی راستے سے پیدا ہوتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار ٹوکنے سے پہلے ایک لمبا سانس لیجیے، آواز ایک درجہ دھیمی کر لیجیے، اور بچے کی آنکھوں میں دیکھ کر پہلے اُس کا نام لیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔