شادی کے کئی برسوں بعد محبت اور گرمجوشی معمول اور فرض میں بدل گئی ہے۔ کیا اپنے شریکِ حیات کے ساتھ نرمی اور شوخی واپس چاہنا بہت دنیاوی بات ہے؟
Miyan biwi mein mohabbat ki garmjoshi
اس خواہش میں دنیاداری کی کوئی بات نہیں۔ شریکِ حیات کے ساتھ وہی نرمی، گرمجوشی اور ہلکی پھلکی شوخی لوٹ آئے، یہ چاہنا دین سے ہٹنا نہیں۔ جو سکون اور اپنائیت آپ کو کم پڑتی محسوس ہو رہی ہے، وہ اللہ ہی نے اس رشتے میں رکھی ہے اور اسے اپنی نشانی کہا ہے۔
دیکھیے، قرآن میاں بیوی کے درمیان رکھی ہوئی چیز کو کن ناموں سے یاد کرتا ہے:
”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔“
قرآن، سورۃ الروم ۳۰:۲۱ · مفہوم
اس آیت میں دو الگ چیزوں کا ذکر ہے۔ ”مَوَدَّة“ یعنی محبت اور گرمجوشی، اور ”رَحْمَة“ یعنی مہربانی اور نبھاؤ۔ برسوں کے ساتھ عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ رحمت اور فرض شناسی تو قائم رہتی ہے، مگر مودّت دبی دبی سی رہ جاتی ہے۔ آپ اسی مودّت کو واپس مانگ رہے ہیں، یعنی اُس حصے کو جو خود رب نے اس رشتے میں رکھا تھا۔ یہ دنیاداری نہیں، آیت پر عمل ہے۔
اور گھر کے اندر کا سلیقہ آقا ﷺ سے بڑھ کر کون سکھا سکتا ہے۔ آپ ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ خوش طبعی فرماتے، ہنسی مذاق فرماتے، حتیٰ کہ دوڑ بھی لگاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود یہ منظر یوں بیان فرماتی ہیں:
”میں نے نبی کریم ﷺ سے دوڑ لگائی اور میں آپ سے آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو میں نے آپ ﷺ سے دوڑ لگائی اور آپ ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے، پھر فرمایا: یہ اُس دوڑ کا بدلہ ہے۔“
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، سنن ابی داؤد (۲۵۷۸) · مفہوم
جس ہستی کے کندھوں پر پوری امت کا بوجھ تھا، وہ اپنی بیوی کے ساتھ کھلے میدان میں دوڑ لگاتی ہے، اور برسوں بعد دوسری دوڑ میں مسکرا کر پہلی دوڑ کا حساب یاد دلاتی ہے۔ تو گھر کی یہ ہنسی، یہ چھیڑ چھاڑ، فضول بات نہیں، سنت ہے۔ جو کام آقا ﷺ نے کیا، وہ کم درجے کا کیسے ہو سکتا ہے۔
اور آپ ﷺ نے بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کو کوئی چھوٹی سی گھریلو بات نہیں رہنے دیا، اسے آدمی کی اصل خوبی کا پیمانہ بنا دیا:
”تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو، اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنی بیویوں کے لیے بہترین ہوں۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابن ماجہ (۱۹۷۷) · مفہوم
گرمجوشی لوٹانے کے لیے کسی بڑے اہتمام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ازدواجی زندگی پر کام کرنے والے ایک ہی بات بتاتے ہیں، کہ جو جوڑے چھوٹے چھوٹے مشترک معمول دوبارہ شروع کر لیتے ہیں، ساتھ ذرا سی چہل قدمی، ہلکی پھلکی بات، سکون سے مل بیٹھ کر چائے کا ایک پیالہ، اور وہ کام جس میں دونوں کا دل لگے، نہ کہ ایک دوسرے کی خاطر برداشت کرے، اُن کے ہاں قربت پھر گرم ہونے لگتی ہے۔ چنگاری بجھی نہیں ہوتی، دبی ہوتی ہے۔ اور پہل کرنے میں دیر نہ کیجیے، دوسرا دل بھی اکثر اسی ایک اشارے کا منتظر ہوتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اس ہفتے کوئی ایک چھوٹی سی مشترک بات دوبارہ شروع کیجیے، ساتھ ذرا سی چہل قدمی، مل بیٹھ کر چائے، یا کوئی ہلکی سی خوش طبع بات، اور یہ اسی نیت سے کیجیے کہ اللہ نے جو محبت آپ دونوں کے درمیان رکھی ہے، وہ پھر گرم ہو جائے۔
