بہت سے صوفی سلسلے ہیں۔ یہ نقشبندی مجددی راستہ آخر ہے کیا، اور یہ لوگ نبی کریم تک پہنچنے والی ایک اٹوٹ سلسلے سے جُڑے رہنے کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں؟
Naqshbandi mujaddidi silsila kya hai
سب سے پہلے ایک بات سمجھ لیجیے۔ اِس راہ میں یہ دعویٰ کرنا کہ ”فلاں سلسلہ سب سے بڑا اور سب سے آخری ہے“، ہمارے بزرگوں کا شیوہ کبھی نہیں رہا۔ سارے سلسلے اُسی ایک سرچشمے، یعنی حضور نبی کریم ﷺ کے دامنِ رحمت سے پھوٹے ہیں، جیسے ایک ہی دریا کی کئی نہریں ہوں اور ہر نہر پیاسوں کو سیراب کرتی ہو۔ نقشبندی مجددی راہ کا اپنا ایک ذوق اور اپنا ایک مزاج ضرور ہے، مگر یہ برتری کی بات نہیں، اللہ کے فضل کی ایک صورت ہے۔
اب آپ کے اصل سوال کی طرف آتے ہیں، کہ اِس راہ کے لوگ نبی کریم ﷺ تک پہنچنے والی اُس اَٹوٹ زنجیر کو، جسے ”سلسلہ“ یا ”نسبت“ کہا جاتا ہے، اِتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ بنیاد سمجھنے کے لیے پہلے اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان سن لیجیے جو ہر مومن کے سینے میں قربِ الٰہی کی تڑپ رکھ دیتا ہے۔
”اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اُس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو، اور اُس کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“
قرآن، سورۃ المائدہ ۵:۳۵ · مفہوم
آیت کو پہلے اُس کے اپنے لہجے میں سنیے، اِس سے پہلے کہ ہم اُسے اپنی بات پر لاگو کریں۔ یہاں دو حکم ہیں، ایک تقویٰ، دوسرا اللہ تک پہنچنے کے وسیلے کی تلاش۔ اور اِس وسیلے کی تفسیر میں اسلاف کا کلام تقریباً ایک ہی ہے۔ حضرت ابنِ عباس، حضرت مجاہد، حضرت قتادہ اور حضرت حسن بصری سے، جیسا کہ امام طبری اور حافظ ابنِ کثیر نے نقل کیا ہے، یہی مروی ہے کہ وسیلے سے مراد ایمان، اطاعت اور نیک اعمال ہیں، یعنی وہی کام جن پر چل کر بندہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے۔ آیت کسی واسطے یا کسی ہستی کا نام نہیں لیتی، بلکہ ہمارے ہاتھ میں ایک کام تھما دیتی ہے، کہ اطاعت کے راستے سے اپنے مولا کے قریب ہو جاؤ۔
یہ بات کھل جائے تو اِس راہ کا مقام بھی کھل جاتا ہے، اور وہ اُس سے کہیں سادہ ہے جتنا بعض لوگ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ دل کو کدورتوں سے صاف کرنا، اُسے اللہ کی یاد سے آباد کرنا، زبان اور نگاہ کی حفاظت سیکھنا، یہ سب اطاعت ہی تو ہے، اور آیت اِسی کام کا حکم دے رہی ہے۔ نقشبندی مجددی راہ اِس سے زیادہ کسی چیز کا دعویٰ نہیں کرتی۔ یہ اُسی کام کو کرنے کا ایک آزمودہ اور نرم طریقہ ہے، ذکر اور تربیتِ قلب کا ایک سلیقہ، جو ایک زندہ رہنما سے طالب تک منتقل ہوتا ہے، جیسے ہر ہنر کسی ماہر کے پہلو میں بیٹھ کر زیادہ سلیقے سے آتا ہے۔ آیت جس وسیلے کا نام لیتی ہے وہ اطاعت ہے، اور یہ راہ اُسی اطاعت میں مدد دیتی ہے، اُس کی جگہ نہیں لیتی۔
اب سلسلے کی بات۔ اِسے یوں سمجھیے کہ گھر میں بجلی کا قمقمہ اُس وقت تک روشن نہیں ہوتا جب تک تار کے ذریعے کارخانے سے جُڑا نہ ہو۔ نیک بزرگوں کے دلوں میں نورِ نبوت ﷺ کا جو فیض ہے، وہ اِسی جُڑی ہوئی زنجیر کے ذریعے سینہ بہ سینہ چلا آ رہا ہے، اُستاد سے شاگرد تک، ایک کڑی سے دوسری کڑی تک، بغیر ٹوٹے۔ سو سلسلے کی قدر ایک سیدھی سی وجہ سے ہے، کہ جب زنجیر اَٹوٹ ہو اور سیدھی حضور ﷺ تک جا ملے، تو طالب کو اطمینان رہتا ہے کہ جو تربیت اُس تک پہنچ رہی ہے وہ بزرگوں کی آزمودہ میراث ہے، کسی کی اپنی اختراع نہیں۔
اِسی مناسبت سے بزرگوں نے قرآن کے ایک نرم اشارے کو ہمیشہ دل سے لگا کر رکھا ہے۔
”اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔“
قرآن، سورۃ التوبہ ۹:۱۱۹ · مفہوم
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت غزوۂ تبوک کے پس منظر میں اُتری، جب حضرت کعب بن مالک اور اُن کے دو ساتھیوں نے، بہانہ بنا لینا کہیں آسان ہونے کے باوجود، سچ کہہ دیا تھا۔ اہلِ ایمان کو حکم ملا کہ تقویٰ اختیار کریں اور ایسے ہی سچے لوگوں کا ساتھ پکڑیں۔ بزرگوں نے اِس سے ایک وسیع سبق لیا، کہ جب اللہ تعالیٰ سچوں کی رفاقت کو یوں پسند فرماتا ہے تو ہر زمانے میں سچے دلوں کی صحبت رحمت ہی ہے۔ سلسلہ اِسی صحبت میں بنے رہنے کا ایک انتظام ہے، ناموں کی فہرست پر فخر کرنے کا نام نہیں، اور اِس زنجیر کے آخری سرے پر خود حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکت ہے۔ گویا یہ سارا اہتمام آپ ﷺ سے تعلق اور اُسی فیض کی حفاظت کا اہتمام ہے۔
اور جن بزرگ کی نسبت سے یہ راہ ”مجددی“ کہلائی، وہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ہیں، جنہوں نے اِس سلسلے کے ہر قدم کو دوبارہ سنت کے سانچے میں ڈھال دیا۔ اِس راہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو حضور ﷺ کے طریقے سے الگ کھڑی ہو، بلکہ سارا مقصد یہی ہے کہ دل آپ ﷺ کی اطاعت میں پوری طرح ڈھل جائے۔ سو اگر کبھی یہ کھٹک دل میں اُٹھی ہو کہ باطنی راہ کہیں صاف تعلیم سے ہٹ نہ جائے، تو جان لیجیے کہ یہ تجدید اِسی کھٹک کو دور کرنے کے لیے ہوئی۔
یہی احتیاط اِس راہ کی چھوٹی چھوٹی عادتوں میں بھی جھلکتی ہے۔ یہاں ذکر بلند آواز سے نہیں، دل کے اندر چپکے چپکے کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں سے کٹ کر لمبی تنہائیوں کے بجائے طالب کو یہ سلیقہ سکھایا جاتا ہے کہ مخلوق کے درمیان رہتے ہوئے بھی دل خالق کے ساتھ لگا رہے، کام کاج میں، گھر کی مصروفیت میں، بازار کی بھیڑ میں۔ آپ سے کوئی ایسی چیز نہیں مانگی جاتی جو صحابہ کرام کے زمانے کے لیے اجنبی ہو، بس ایک جاگتا ہوا دل، جو عام سے دن کے بیچوں بیچ بھی اپنے مولا کو یاد رکھے۔
سو ناموں اور سلسلوں کی کثرت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اِن سب کے نیچے ایک ہی تڑپ دھڑکتی ہے، کہ اللہ کا تقویٰ نصیب ہو، اطاعت اور دل کی صفائی کے وسیلے سے اُس کا قرب ملے، اور راستہ دکھانے والے سچوں کی صحبت میسر رہے۔ نقشبندی مجددی راہ اِنہی قرآنی دعوتوں کا ایک نرم اور سنت سے بندھا ہوا جواب ہے، اور اِس کا اَٹوٹ سلسلہ صدیوں کے پار سے بڑھا ہوا وہ ہاتھ ہے جس کے ہوتے ہوئے اللہ کی طرف چلنے میں تنہائی کا اندیشہ نہیں رہتا۔
ایک چھوٹا قدم: آج دن میں کم از کم ایک بار، دل کی گہرائی سے نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھیے، اور پڑھتے وقت دل میں یہ محبت جگائیے کہ اِسی نسبت کے ذریعے میں بھی اُس مبارک قافلے سے جُڑ رہا ہوں۔
