دل کے سوال

سچ پوچھیں تو میں ساتھیوں اور اجنبیوں کے ساتھ نرم اور مسکراتا ہوں، لیکن گھر میں چڑچڑا ہو جاتا ہوں۔ جو میرے سب سے قریب ہے اسے میرا بدترین رویہ کیوں ملتا ہے؟

Bahar narmi ghar mein ghussa

آپ نے اپنی ایک بات خود پہچان لی ہے، اور یہ پہچان ہی آدھا راستہ ہے۔ باہر دن بھر ہم نرمی اور مسکراہٹ نبھاتے ہیں، اور گھر کی دہلیز پر آ کر مسکراہٹ تھک جاتی ہے اور مزاج تنگ ہو جاتا ہے۔ یہ صرف آپ کے ساتھ نہیں، آج کل یہ عام سی عادت بن چکی ہے، اور عادت بہرحال بدلی جا سکتی ہے۔

بات وہیں سے شروع کیجیے جہاں نبی کریم ﷺ نے ایمان کا پیمانہ رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں دیکھا کہ آدمی بازار اور دفتر میں کیسا ہے، بلکہ یہ دیکھا کہ اپنے گھر میں کیسا ہے:

”ایمان میں سب سے کامل وہ مومن ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو، اور تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے سب سے بہتر ہو۔“

نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۱۱۶۲) · مفہوم

ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اصل اور بہترین روپ وہ ہے جو باہر والوں کے سامنے آتا ہے، اور گھر میں جو تھکا ہوا آدمی ہے وہ بس سستا رہا ہے۔ یہ حدیث اِس سوچ کو اُلٹ دیتی ہے۔ آدمی کی اصل پہچان وہی ہے جو ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے جانتے ہیں، بیوی، بچے، ماں باپ، یعنی وہ لوگ جو اُسے بغیر کسی تکلف کے دیکھتے ہیں۔

سچ پوچھیے تو ہم اپنا بہترین اخلاق اُن پر خرچ کرتے ہیں جن کے سامنے اچھا بننا ضروری لگتا ہے، اور جن کے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ یہ تو ہر حال میں ساتھ رہیں گے، اُن کے ساتھ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ اِس بات کو صاف دیکھ لینے میں ایک تسلی بھی ہے، کہ گھر کی تلخی آپ کی فطرت نہیں، محض ایک عادت ہے، اور عادت سدھر سکتی ہے۔

اب ذرا آقا ﷺ کے اخلاق کی یکسانی دیکھیے۔ محفل بدلتی تھی، مگر رویّہ نہیں بدلتا تھا۔ جو بھی کچھ مانگنے آیا، اپنا ہو یا اجنبی، اُسے وہی کھلا ہاتھ اور وہی کھلا چہرہ ملا:

”نبی کریم ﷺ سے جو چیز بھی مانگی گئی، آپ نے کبھی انکار نہ کیا۔“

سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، صحیح بخاری (۶۰۳۴) · مفہوم

ہر جگہ ایک ہی چہرہ اور ایک ہی نرمی، سامنے برسوں کا ساتھی ہو یا دروازے پر کھڑا اجنبی۔ اور جو نرمی باہر والوں کے سامنے کبھی ماند نہ پڑی، وہ کوئی ایسا لباس نہ تھی جسے اپنے گھر کی دہلیز پر اُتار دیا جائے۔ آپ ﷺ نے خود بتا دیا کہ اِس یکسانی کا سب سے روشن مقام کون سا ہے، وہی جو ابھی ہمارے سامنے گزرا، کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔

تو کرنا صرف اتنا ہے کہ باہر والا چہرہ گھر لے آئیے۔ وہی خندہ پیشانی، وہی صبر، وہی نرم جواب جو اجنبی کو بلا تکلف دے دیتے ہیں، اپنے گھر والوں کے لیے بھی رکھیے۔ باہر کی مسکراہٹ چند گھنٹوں کی ہوتی ہے، گھر کی نرمی عمر بھر کی راحت بنتی ہے اور نامۂ اعمال کا سب سے وزنی حصہ بھی یہی ہے۔ یہ ہنر آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے، اور اِس کے سب سے سچے حقدار وہی چہرے ہیں جو گھر میں آپ کا انتظار کرتے ہیں۔

ایک چھوٹا قدم: آج گھر میں داخل ہوتے وقت دروازے پر ایک لمحہ ٹھہریے، اور اندر جا کر جو پہلا فرد سامنے آئے، اُسے وہی مسکراہٹ اور سلام دیجیے جو آپ کسی معزز مہمان کو دیتے ہیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔