میں اپنی ساری عبادت ادا کرتا ہوں، مگر سچ کہوں تو وہ خشک اور مشینی سی لگتی ہے، جیسے اُس میں اب کوئی لذت یا مٹھاس باقی نہیں رہی۔ کیا کوئی راستہ ہے کہ میں اپنے ایمان کو دوبارہ محسوس کر سکوں؟
Ibadat mein mithas kyun nahi milti
عبادت میں خشکی آ جانا اِس کی دلیل نہیں کہ ایمان میں کوئی خرابی آ گئی ہے۔ جو دل مٹھاس کی کمی محسوس کرے، وہ دل زندہ ہے، مُردہ دل کو تو یہ کمی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ یہ خشکی نہ گناہ ہے، نہ کوئی ایسی بات جس پر شرمندہ ہونا چاہیے، بلکہ ایک موسم ہے جو راستے پر چلنے والے ہر شخص پر کبھی نہ کبھی گزرتا ہے۔ اور عبادت کا مشینی سا لگنا بتاتا ہے کہ دل اب ظاہر سے آگے بڑھ کر باطن کی لذت مانگ رہا ہے۔
ایمان کی مٹھاس کا راز خود آقا ﷺ نے بیان فرما دیا، اور وہ راز کسی کٹھن ریاضت میں نہیں، محبت میں رکھا گیا ہے۔
”تین خوبیاں ہیں، جس میں یہ ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پا لیتا ہے، پہلی یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول ﷺ اُسے سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (۱۶) · مفہوم
دیکھیے، حضور ﷺ نے مٹھاس کو چکھنے کی چیز کہا، جیسے شہد کی مٹھاس زبان پر آتی ہے۔ اور اِس کی کنجی محبت ہے۔ جب عبادت محبوب کی یاد بن جائے تو وہی نماز، جو کل بوجھ لگتی تھی، ملاقات کا وقت بن جاتی ہے۔ سو کرنا یہ نہیں کہ عبادتیں بڑھا کر خود کو تھکا لیا جائے، کرنا یہ ہے کہ دل میں اُس ذات کی محبت کو ہوا دی جائے جس کے لیے یہ ساری عبادت ہے۔ اور محبت جگانے کا آزمودہ نسخہ ہمارے نقشبندی بزرگوں کے ہاں ذکرِ قلبی ہے، یعنی دل کا اُس کے نام سے آباد ہو جانا۔
اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرما دی ہے کہ دلوں کا چین اُس کی یاد میں رکھا گیا ہے۔
”وہ لوگ جو ایمان لائے اور اُن کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، خبردار، اللہ ہی کی یاد سے دل چین پاتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ الرعد ۱۳:۲۸ · مفہوم
سو جب عبادت خشک لگے تو سمجھ لیجیے کہ دل یاد سے ذرا دور ہٹ گیا ہے، اور اُسے آہستگی سے پھر اُسی نام کی طرف موڑ دینا ہے۔ نہ جلدی کی ضرورت ہے، نہ زور لگانے کی۔ سوکھی زمین ایک قطرے سے نرم نہیں ہوتی، مگر قطرہ قطرہ برستا رہے تو مہک بھی اٹھتی ہے اور ہریالی بھی لوٹ آتی ہے۔ آپ کا ایمان کہیں گیا نہیں، بس ذرا سویا ہوا ہے، اور جو تڑپ آپ کے اندر ہے وہی اُسے جگا دے گی۔
ایک چھوٹا قدم: آج کی کوئی ایک نماز شروع کرنے سے پہلے دو لمحے ٹھہریے اور دل میں یہ خیال لائیے کہ ”میں اُس کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوں جو مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے”، پھر اِسی احساس کے ساتھ نیت باندھیے۔
