کیا غریب ہونا اللہ کے زیادہ قریب ہے؟ کبھی کبھی میں آسودہ حال ہونے پر شرمندہ ہوتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کہیں میری دولت رکاوٹ تو نہیں۔
Kya garibi Allah se qareeb hai
اللہ سے قربت کا پیمانہ یہ نہیں کہ کسی کے پاس کتنا مال ہے۔ غربت بجائے خود قربت کی سیڑھی نہیں، اور دولت بجائے خود دوری کی دیوار نہیں۔ اصل چیز وہ دل ہے جو ایمان اور نیک عمل سے آباد ہو۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے وہاں کھول کر بیان فرمائی جہاں کچھ لوگ مال و اولاد کی فراوانی ہی کو اللہ کی خوشنودی کی سند سمجھ بیٹھے تھے:
”اور نہ تمہارے مال تمہیں ہماری بارگاہ میں قریب کرتے ہیں اور نہ تمہاری اولاد، مگر وہ جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا، سو ایسے ہی لوگوں کے لیے ان کے عمل کا دُگنا بدلہ ہے۔“
قرآن، سورۃ سبا ۳۴:۳۷ · مفہوم
غور کیجیے، آیت یہ نہیں کہتی کہ مال دور کر دیتا ہے، اور یہ بھی نہیں کہتی کہ تنگ دستی خود بخود قریب کر دیتی ہے۔ وہ مال اور اولاد، دونوں کو پیمانہ ماننے سے انکار کرتی ہے اور نظر دل کے رُخ کی طرف پھیر دیتی ہے، یعنی ایمان اور عملِ صالح کی طرف۔ صاحبِ حیثیت آدمی ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اُسی ایمان اور اُنہی اعمال کے سبب قریب ہوتا ہے، اور جو اجر دُگنا ہوتا ہے وہ اُس کے عمل کا ہے، اُس کی ملکیت کا نہیں۔ پیمانہ دل ہے، کھاتہ نہیں۔
تو پھر مال کا مقام کیا ہے؟ مال وہ میدان ہے جس میں یہی نیک اعمال بوئے جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اُس صاحبِ ثروت کو کبھی کم تر نہیں جانا جو اپنا مال اللہ کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتا ہے، بلکہ اُسے اُن دو میں شمار فرمایا جن کے مقام کی تمنا کی جا سکتی ہے:
”دو کے سوا کسی پر رشک روا نہیں، ایک وہ جسے اللہ نے مال عطا کیا اور اُس نے اُسے حق کی راہ میں خرچ کرنے پر لگا دیا، اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت (علمِ دین) عطا کی، سو وہ اُس کے مطابق فیصلہ کرتا اور اُسے سکھاتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۱۴۰۹) · مفہوم
حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی یاد کیجیے۔ اُن کی بادشاہت، خزانوں اور شان و شوکت کا ذکر قرآن میں عزت کے ساتھ آیا ہے، ملامت کے ساتھ نہیں۔ اللہ نے اُن کی سلطنت چھینی نہیں، اُسے سجایا۔ اگر دولت بجائے خود دوری ہوتی تو کسی نبی کے ہاتھ میں کیوں دی جاتی؟ رکاوٹ خزانہ نہیں بنتا، رکاوٹ دل کا رُخ بنتا ہے۔
اور رزق کی تقسیم بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے:
”اور اللہ نے تم میں سے بعض کو رزق میں بعض پر فضیلت دی ہے۔“
قرآن، سورۃ النحل ۱۶:۷۱ · مفہوم
اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جسے زیادہ ملا، وہ دراصل امانت دار ٹھہرا، تاکہ یہ فراوانی اُس کے ہاتھ سے محتاجوں تک پہنچے۔ آپ کی آسودگی شرمندگی کی چیز نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ اللہ نے جو دیا ہے، اُس پر کڑھنے سے کچھ نہیں ملتا۔ ملتا شکر اور سخاوت سے ہے۔ اسے شکر کے ساتھ تھامیے، حلال سے کمائیے، اور اُس میں سے کچھ حصہ محتاجوں کی طرف موڑ دیجیے۔ پھر یہی آسودگی، جس پر آپ کو تشویش تھی، اللہ تک پہنچنے کا راستہ بن جائے گی۔
ایک چھوٹا قدم: آج اپنی آمدنی میں سے ایک چھوٹی سی رقم، چاہے وہ کتنی ہی معمولی ہو، خاموشی سے کسی ضرورت مند تک اس نیت سے پہنچا دیجیے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کا شکرانہ ہے۔
