دل کے سوال

جن لوگوں کی میں عزت کرتا ہوں ان کے ساتھ میں شائستہ اور فراخ دل ہوں، مگر بیروں، ڈرائیوروں اور ماتحتوں کے ساتھ روکھا اور بے اعتنائی سے پیش آتا ہوں۔ ایسا بار بار کیوں ہوتا ہے؟

Chote logon ke saath rukha rawaiya

یہ بات صرف آپ کے ساتھ نہیں، ہم میں سے اکثر کے ساتھ ہوتی ہے، اور اِس کی جڑ سمجھ لیں تو معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ ہم بے خیالی میں لوگوں کو دو حصوں میں بانٹ لیتے ہیں، ایک وہ جن سے کچھ ملنے یا بگڑنے کا اندیشہ ہو، دوسرے وہ جن سے، ہمارے خیال میں، کچھ لینا دینا نہیں۔ پہلوں کے سامنے ہم سنبھل کر بیٹھتے ہیں، دوسروں کے سامنے زبان ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ یہ دل کا کوئی روگ نہیں، زمانے کی سکھائی ہوئی ایک عادت ہے، جو آدمی کو اُس کے کام کے وزن سے تولتی ہے۔ اور عادت بدلی جا سکتی ہے۔

دین اِس ترتیب کو اُلٹ دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اُن لوگوں کو، جنہیں دنیا سب سے نیچے رکھتی ہے، اُٹھا کر ہمارے برابر بٹھایا اور اُنہیں نوکر نہیں، بھائی کہا:

”یہ تمہارے خدمت گزار تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے اُنہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ پس جو تم خود کھاتے ہو اُسی میں سے اُنہیں کھلاؤ، اور جو تم خود پہنتے ہو اُسی میں سے اُنہیں پہناؤ۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۳۰ / مسلم ۱۶۶۱a) · مفہوم

بھائی کہا گیا، ملازم نہیں۔ جو آپ کے سامنے کھانا رکھتا ہے، جو آپ کو منزل تک پہنچاتا ہے، جو دفتر میں آپ کے جواب کا انتظار کرتا ہے، تھوڑی دیر کے لیے وہ سب آپ کے سپرد ہیں۔ اور جہاں یہ تعلق باقاعدہ ملازمت کا ہو، یعنی کوئی آپ کی اُجرت پر کام کرتا ہو، وہاں ایک حق ایسا ہے جس پر آپ ﷺ نے بہت سخت لفظوں میں تنبیہ فرمائی:

”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، تین شخص ایسے ہیں جن کے مقابل قیامت کے دن میں خود ہوں گا، ایک وہ جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر اُسے توڑ دے، دوسرا وہ جو کسی آزاد شخص کو بیچ کر اُس کی قیمت کھا جائے، اور تیسرا وہ جو کسی مزدور کو اُجرت پر رکھے، اُس سے پورا کام لے، اور اُس کی مزدوری نہ دے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۲۷۰) · مفہوم

ذرا اِس کا وزن دیکھیے۔ جہاں مزدور کی مزدوری روکنے پر اللہ خود اُس کی طرف سے کھڑا ہو جائے، وہاں اُسی مزدور کا وہ چھوٹا سا حق، ایک سلام، ایک نرم لہجہ، شکریہ کا ایک لفظ، کوئی مومن دل کیسے روک سکتا ہے۔ ہمارے بزرگ اِنہی تعلیمات سے یہی نرمی نکالتے آئے ہیں۔

قرآنِ کریم نے تو حسنِ سلوک کی فہرست میں اِن لوگوں کا ذکر ماں باپ اور رشتہ داروں کے ساتھ ہی کر دیا، درمیان میں کوئی درجہ رکھے بغیر:

”اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب کے پڑوسی، دُور کے پڑوسی، پہلو کے ساتھی، مسافر، اور اُن کے ساتھ بھی جو تمہارے دائیں ہاتھوں کی ملکیت ہیں۔“

قرآن، سورۃ النساء ۴:۳۶ · مفہوم

غور کیجیے، جن کا ہمارے نزدیک کوئی حق نہیں، اُن کا نام اللہ نے ماں باپ کے ساتھ لیا ہے۔ آدمی کی پہچان اِس سے نہیں ہوتی کہ وہ بڑوں کے ساتھ کیسا ہے، بلکہ اِس سے کہ اُن کے ساتھ کیسا ہے جن سے اُسے کچھ نہیں ملنا۔ بڑوں کے آگے نرم رہنا آسان ہے، اصل بات وہاں ہے جہاں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا اور کچھ ملنے کی توقع بھی نہیں۔ اور یہ آپ کو نئے سرے سے نہیں سیکھنا، جو ادب آپ کچھ لوگوں کو بہ آسانی دیتے ہیں، بس اُسے باقی دن پر پھیلا دینا ہے۔

نقشبندی مجددی راہ میں خدمتِ خلق کو یہی مقام دیا گیا ہے، کہ خالق تک پہنچنے کا ایک راستہ اُس کی مخلوق کے دلوں سے ہو کر جاتا ہے۔ اپنے سے چھوٹے کا دل رکھنا بھی اُسی راستے کی ایک منزل ہے۔

ایک چھوٹا قدم: کل جب کوئی ویٹر، ڈرائیور یا ماتحت آپ کی خدمت کرے، تو اُس کا نام پوچھیے، نام لے کر سلام کیجیے، اور شکریہ اُسی طرح کہیے جیسے کسی بڑے سے کہتے ہیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔