دل کے سوال

مسجد کے لیے بڑا اعلانیہ عطیہ دینا، جہاں میرا نام نظر آئے گا، کیا خاموش تحفے کے مقابلے میں ثواب ختم کر دیتا ہے؟

Masjid ka alaniya chanda aur sawab

مسجد کی تعمیر میں مال لگانے کا اجر بہت بڑا ہے، اور لوگوں کی نظر آپ کے نام پر پڑ جانے سے یہ اجر ضائع نہیں ہو جاتا۔ قرآن نے دینے کی دونوں صورتیں بیان کی ہیں، چھپا کر دینا بھی اور کھلے عام دینا بھی، اور دونوں کے اجر کا وعدہ کیا ہے۔

”جو لوگ اپنے مال رات اور دن، چھپا کر اور کھلے عام خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔“

قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۲۷۴ · مفہوم

دیکھیے، اللہ نے رات کو خرچ کرنے والے اور دن کو خرچ کرنے والے، چھپا کر دینے والے اور اعلانیہ دینے والے، سب کو ایک ہی آیت میں سمیٹ لیا اور ہر ایک کا اجر اپنے ذمے لے لیا۔ اتنی بات یہ آیت طے کر دیتی ہے، اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں، کہ نظر پڑ جانے سے صدقہ رائیگاں نہیں جاتا۔

البتہ اسی سلسلۂ کلام میں، اس سے چند آیتیں پہلے، ایک اور بات بھی ارشاد ہوئی ہے جسے نظرانداز کرنا مناسب نہیں، اور وہ بات ہمارے خلاف نہیں، ہمارے فائدے کی ہے۔ وہاں فرمایا گیا کہ صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے، اور چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے۔ سو قرآن کا جھکاؤ پوشیدہ ہاتھ کی طرف ہے، اور اس کی وجہ بھی ہماری ہی بھلائی ہے، کہ جو عمل نظروں سے اوجھل رہے، اس میں دل زیادہ محفوظ رہتا ہے، نہ کوئی واہ واہ کرنے والا ہوتا ہے اور نہ نفس کو کچھ کھانے کو ملتا ہے۔ بزرگوں نے اسی لیے خفیہ صدقے کو پسند کیا، اور یہ پسند اعلانیہ دینے والوں پر کوئی طعن نہ تھی۔

اب اپنا معاملہ دیکھیے۔ یہ ترجیح بنیادی طور پر اُس نفلی صدقے کے بارے میں ہے جو ہم کسی حاجت مند کی ہتھیلی پر رکھتے ہیں۔ جہاں کام ہی اجتماعی ہو، جیسے مسجد کی تعمیر، اور جہاں ایک ہاتھ کھلنے سے دس ہاتھ کھل جاتے ہوں، وہاں اہلِ علم نے کھلے عام دینے کو سراہا ہے، کیونکہ ایسا عطیہ بیک وقت دو چیزیں کھڑی کرتا ہے، پتھر کی دیواریں اور دوسروں کے دلوں کا حوصلہ۔ اس لیے آپ کی صورت میں کوئی راستہ کم تر نہیں۔ جس میں مسجد کا فائدہ ہو اور دل نرم رہے، وہی اختیار کر لیجیے، اور مطمئن رہیے کہ اللہ نے دونوں کا اجر لکھ رکھا ہے۔

اب وہ بات سنیے جسے قرآن نے اصل خطرہ کہا ہے۔ وہ دو چیزیں ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی دیوار پر لکھا ہوا نام نہیں۔

”اے ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر برباد نہ کرو۔“

قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۲۶۴ · مفہوم

یہ آیت آخر تک پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں نیکی کے کھوکھلا ہو جانے کی دو صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک اُس شخص کی، جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، اور دوسری احسان جتلانے اور دل دکھانے کی۔ بات ٹھیک ٹھیک سمجھ لیجیے، کیونکہ صحیح بات ہی زیادہ تسلی دیتی ہے۔ آیت اُس خرچ سے روکتی ہے جس کا سبب ہی لوگوں کی نگاہ ہو، یعنی دیا اسی لیے جائے کہ لوگ دیکھیں۔ اور جو عطیہ اللہ کے لیے دیا گیا اور بعد میں لوگوں کے سامنے آ گیا، وہ بالکل الگ بات ہے۔ دوسرا خطرہ اسی کے پہلو میں کھڑا ہے، یعنی بار بار جتانا، یہ محسوس کرنا کہ اب لوگ میرے احسان تلے دبے ہوئے ہیں، اور دینے سے دل نرم ہونے کے بجائے پھول جانا۔

سو سوال یہ نہیں کہ نام کہاں لکھا ہے، سوال یہ ہے کہ نیت کہاں کھڑی ہے۔ کل وہ تختی اتار دی جائے اور دل پھر بھی صرف اس بات پر خوش رہے کہ مسجد بن گئی، تو معاملہ ٹھیک جگہ پر ہے۔ احسان جتلانے کے اس نرم بہاؤ سے دل کو بچائیے، پھر دیوار پر لکھا نام آپ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔

اس لیے خاموش عطیے اور اعلانیہ عطیے کے درمیان دل کو الجھانے کی ضرورت نہیں۔ چھپا کر دینے میں دل زیادہ مطمئن رہتا ہو تو چھپا کر دیجیے، اور کھلے عام دینے سے دوسروں کا حوصلہ بڑھے اور مسجد جلد مکمل ہو تو کھلے عام دیجیے، مگر تعریف کے نیچے دل کو جھکائے رکھیے، اور اندر ہی اندر یہ کہتے رہیے کہ مال تو اُسی کا تھا، میرے ہاتھوں سے ہوتا ہوا اُسی کی طرف لوٹ گیا۔

ایک چھوٹا قدم: جب بھی کوئی نمایاں عطیہ دیں، اسی ہفتے میں کوئی ایک چھوٹی سی خیرات ایسی بھی کر دیجیے جس کا آپ کے اور اللہ کے سوا کسی کو علم نہ ہو، خواہ چند روپے کسی ضرورت مند کی جیب میں چپکے سے رکھ دینا ہی ہو۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔