دل کے سوال

اگر میں کوئی نیکی کچھ اللہ کو خوش کرنے کے لیے اور کچھ اس لیے کروں کہ لوگ مجھے اچھا سمجھیں، تو کیا سارا عمل خراب ہو جاتا ہے؟

Neki mein milee julee niyat

پورا عمل ضائع نہیں ہوتا، البتہ ایک نقصان ضرور ہوتا ہے، اور یہ جان لینا ضروری ہے کہ نقصان کہاں واقع ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے واسطے سے یہ بات صاف صاف بتا دی ہے۔

”میں ہر شریک سے اتنا بے نیاز ہوں کہ مجھے کسی شریک کی حاجت ہی نہیں۔ جو شخص کوئی عمل کرے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شامل کر لے، تو میں اُسے اور اُس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔“

حدیثِ قدسی، صحیح مسلم (۲۹۸۵) · مفہوم

اس فرمان میں جو کہا گیا ہے اُس پر بھی غور کیجیے اور جو نہیں کہا گیا اُس پر بھی۔ اللہ یہ نہیں فرماتا کہ میں اس کا عمل مٹا دیتا ہوں یا اسے سزا دیتا ہوں۔ فرماتا ہے کہ میں اُسے اُسی کے سپرد کر دیتا ہوں جسے اُس نے میرے ساتھ ملایا۔ یعنی جتنا حصہ لوگوں کی خوشنودی کا تھا، وہ لوگوں کے کھاتے میں چلا گیا اور اُس کا کوئی وزن باقی نہ رہا، اور جو خالص اللہ کے لیے تھا وہ اُسی کے ہاں محفوظ ہے۔

اسی خالص نیت کی طرف قرآن اِن لفظوں میں بلاتا ہے۔

”پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو، اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“

قرآن، سورۃ الکہف ۱۸:۱۱۰ · مفہوم

اخلاص کوئی ایسی چوٹی نہیں جس پر ایک بار چڑھ لیا تو معاملہ تمام ہو گیا، یہ اُس باغ کی طرح ہے جس کی دیکھ بھال عمر بھر کرنی پڑتی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے، یہ خیال ہر دل میں آتا ہے۔ بات یہ نہیں کہ یہ خیال آئے ہی نہ، بات یہ ہے کہ جب آئے تو نرمی سے دل کا رخ پھر اللہ کی طرف موڑ لیا جائے۔ ہمارے بزرگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے کہ دل کو بار بار اپنے رب کی طرف لوٹاتے رہیں۔ اس لیے جو نیکی ہو چکی ہے اُسے پھینکیے نہ، اور جو کل کرنے کا ارادہ ہے، اس اندیشے کی وجہ سے اُسے چھوڑیے نہ۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار کوئی نیکی کرنے سے پہلے دل ہی دل میں صرف ایک بار کہہ لیجیے، “یا اللہ، یہ تیرے لیے ہے”، پھر عمل کر کے اُسے چھوڑ دیجیے اور یہ دیکھنے نہ بیٹھیے کہ کس نے دیکھا۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔