دل کے سوال

میری نماز میں جلدبازی رہتی ہے، میں اسے جتنی جلدی ہو سکے ختم کر کے اپنے کاموں کی طرف لوٹ جاتا ہوں۔ جب زندگی اتنی مصروف ہو تو میں کیسے ٹھہر کر واقعی حاضر ہو سکتا ہوں؟

Jaldbazi ki namaz aur thehrao

آج کے دور میں ٹھہرنا واقعی مشکل ہو گیا ہے۔ کام، ذمہ داریاں، وقت کی دوڑ، اور نماز بھی انہی کاموں کی فہرست میں ایک کام بن کر رہ جاتی ہے۔ پہلے ایک بات صاف کر لیں، یہ جلدبازی آپ کے دل کا عیب نہیں، زمانے کی عادت ہے، اور عادت بدل جاتی ہے۔

ایک آیت ہے جو لوگ کبھی کبھی ایسے ہی فکرمند دل پر رکھ دیتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ تک اپنے صحیح مفہوم کے ساتھ پہنچے، کیونکہ اصل مفہوم سامنے آ جائے تو یہ آیت بوجھ نہیں بنتی۔

”پس خرابی ہے اُن نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔“

قرآن، سورۃ الماعون ۱۰۷:۴-۵ · مفہوم

مفسرینِ کرام اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ یہاں لفظ ”نماز سے غافل“ ہے، ”نماز میں غافل“ نہیں۔ اُنہوں نے یہ وعید بنیادی طور پر اُس نماز پر رکھی ہے جو وقت سے ٹال دی جائے یا جسے کوئی اہمیت ہی نہ دی جائے۔ سورت کا سیاق خود یہ بات کھول دیتا ہے، آگے پیچھے ذکر اُس شخص کا ہے جو جزا کے دن کو جھٹلاتا ہے، یتیم کو دھتکارتا ہے، نماز محض دکھاوے کو پڑھتا ہے اور چھوٹی سی بھلائی سے بھی ہاتھ روک لیتا ہے۔ یہ آپ کا حال نہیں۔ جسے یہ فکر لگی ہو کہ میری نماز جلدی جلدی ہو رہی ہے، اُس کے نزدیک نماز بےقدر نہیں ہے۔ ہاں، اہلِ دل بزرگوں نے اس آیت سے ایک نرم نصیحت بھی لی ہے کہ حاضر ہو کر غائب نہ رہیں، اور میں یہ آیت اسی نرم معنی میں، ایک دعوت کے طور پر، آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، ڈرانے کے لیے نہیں۔

اب اصل بات۔ حاضری کا دروازہ ٹھہراؤ ہے۔ ایک صحابی جلدی جلدی نماز پڑھ کر فارغ ہو گئے تو آپ ﷺ نے سختی نہیں کی، ایک ایک رکن کر کے سکھا دیا:

”واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ … ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر جو قرآن آسانی سے میسر ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، اور یہی اپنی پوری نماز میں کرو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۷۵۷) · مفہوم

غور کیجیے، تعلیم بدن سے شروع ہوئی، دل سے نہیں۔ ہر رکن میں ہڈیاں جم جائیں، سانس سنبھل جائے، تو دل خود ٹھہرنے لگتا ہے۔ بدن کا مطالعہ کرنے والے بھی یہی بتاتے ہیں کہ سانس دھیمی پڑتی ہے تو نبض دھیمی ہو جاتی ہے اور بےچینی کی گرفت ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ یعنی حضورِ قلب کو زور لگا کر دل میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔ بدن کو ہر رکن میں پوری طرح ٹک جانے دیں، جیسے آپ ﷺ نے سکھایا، سکون خود اوپر اٹھ آئے گا۔ رکوع سے سر اٹھانے سے پہلے ذرا رک جائیں، سجدے کو ایک سانس کی مہلت دے دیں۔

یہی ٹھہراؤ آگے چل کر خشوع بنتا ہے، اور خشوع ہی وہ چیز ہے جس پر رب نے کامیاب مومنوں کی پہچان رکھی ہے:

”جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے اور عاجزی کرنے والے ہیں۔“

قرآن، سورۃ المؤمنون ۲۳:۲ · مفہوم

خشوع کوئی بجلی کا کوندا نہیں جسے آپ کو بلانا پڑے۔ یہ آہستہ آہستہ کھلتا ہے، اور اسے صرف گنجائش چاہیے۔ زندگی جتنی بھی مصروف ہو، ایک رکن کو ٹھہراؤ دینا ہر شخص کے بس میں ہے، اور اسی ایک دروازے سے حاضری اندر آنا شروع کر دیتی ہے۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی نماز میں ایک سجدہ چُن لیجیے، اُس میں تین بار آرام سے “سبحان ربی الاعلیٰ” کہیے اور سر اٹھانے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر جائیے۔ دل میں صرف اتنا کہیے، “میں حاضر ہوں”۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔