دل کے سوال

شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ جب میں نے ایک گناہ سے آج کا دن پہلے ہی خراب کر لیا ہے تو کیوں نہ باقی دن بھی مزے کر لوں اور بعد میں توبہ کر لوں۔ اس آواز کا جواب کیسے دوں؟

Shaitan ka waswasa baad mein tauba

ایک بات پہلے سمجھ لو۔ شیطان کی یہ سرگوشی جتنی پرانی ہے، اتنی ہی کمزور بھی ہے، شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اس کی چال پہچان لے۔ پہچانا ہوا دشمن آدھا ہار چکا ہوتا ہے۔

وہ کہتا ہے، دن تو خراب ہو ہی گیا، اب باقی بھی گزار لو، توبہ بعد میں کر لینا۔ ذرا سوچو، یہ کہنے والا تمہارا خیرخواہ ہو ہی نہیں سکتا۔ بھلا کون اپنے کسی عزیز کو یہ مشورہ دے گا کہ گھر لوٹنے میں دیر کر دو؟ اسے تمہاری آج کی لذت سے کوئی غرض نہیں، اسے تمہاری کل کی توبہ چاہیے، اور وہ اسے ایک ایک آسان تاخیر کے ذریعے تم سے چھینتا ہے۔ کپڑے کا ایک کونا میلا ہو جائے تو سمجھ دار آدمی باقی کپڑا بچاتا ہے اور اُس ایک داغ کو جلد دھونے کی فکر کرتا ہے، سارا کپڑا کیچڑ میں نہیں ڈال دیتا۔ اللہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ “بعد میں، بعد میں” کا یہ راستہ آخر کہاں جا کر ختم ہوتا ہے:

”اور توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں جو برائیاں کرتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہوتی ہے تو کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی۔“

قرآن، سورۃ النساء ۴:۱۸ · مفہوم

غور کرو، اللہ کس چیز سے بچا رہا ہے۔ رحمت سے نہیں، بلکہ ٹالنے کی اُس عادت سے، جو بڑھتے بڑھتے آدمی کے پاس اور کچھ رہنے ہی نہیں دیتی۔ آیت میں جس انجام کا ذکر ہے، وہ اِسی “بعد میں” کے ایک بار زیادہ دہرائے جانے کا انجام ہے۔ تو اس سرگوشی کا جواب بالکل سیدھا ہے۔ جو توبہ اتنی اچھی ہے کہ میں اسے آگے کے لیے اپنے آپ سے وعدہ کر رہا ہوں، وہ اِسی وقت کے لیے بھی اچھی ہے۔

اور دروازہ کس قدر کھلا ہوا ہے، یہ دیکھو:

”اللہ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہ کرنے والا توبہ کر لے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہ کرنے والا توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۷۵۹a) · مفہوم

رات کے بعد رات، دن کے بعد دن، وہ ہاتھ پھیلا ہوا ہے اور منتظر ہے۔ گھڑی میں کوئی ایسا وقت نہیں جس میں واپسی کا راستہ بند ہو۔ مگر دیکھو، شیطان اِسی رحمت کو الٹا استعمال کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، وقت بہت ہے، حالانکہ رحمت یہ کہہ رہی ہے کہ ہاتھ اِسی وقت پھیلا ہوا ہے، پھر اسے انتظار میں کیوں رکھتے ہو۔ جسے اللہ سے محبت ہو، وہ اِس پھیلے ہوئے ہاتھ کو فوراً چلے آنے کی دعوت سمجھتا ہے، باہر ٹھہرے رہنے کی اجازت نہیں سمجھتا۔

سو اس آواز کا جواب بحث سے نہ دو، عمل سے دو، کیونکہ عمل ہی وہ جواب ہے جو وہ سہہ نہیں سکتی۔ جس لمحے وہ کہے “بعد میں توبہ کر لینا”، تم اُسی سانس میں اللہ کی طرف پلٹ جاؤ، اور پھر دیکھو، جس دن کو تم خراب سمجھ رہے تھے، وہی دن تمہاری واپسی کا دن بن جاتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: جونہی دل میں “بعد میں توبہ کر لوں گا” کی آواز اٹھے، اس سے بحث نہ کرو۔ جہاں ہو وہیں رُک کر ایک سچی توبہ کر لو اور باقی دن کو نیکی سے سنوارنے کی نیت کر لو، تاکہ ٹالنے کا ہر وسوسہ اُلٹا تمہاری واپسی کا سبب بن جائے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔