دل کے سوال

مجھے لگتا ہے میں لوگوں کے ساتھ بہت نرم ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ اتنی آسانی سے رحم اور معافی دینا لوگوں کو مجھ سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے گا۔ کیا نرمی دراصل کمزوری ہے؟

Narmi kamzori hai ya nahi

جس نرمی سے آپ کو ڈر لگ رہا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے۔ بدلہ لینا اور جھگڑ لینا آسان کام ہے، غصے کے بہاؤ میں تو کمزور آدمی بھی بہہ جاتا ہے۔ قوت اُس میں ہے جو غصے کو تھام لے اور معاف کر دے۔ آئیے، اس اندیشے کو ٹھیک طرح سے دیکھ لیں۔

پہلی بات دل میں بٹھا لیجیے کہ معافی نے آج تک کسی کو چھوٹا نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور اللہ معاف کرنے والے بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۸۸) · مفہوم

یہاں آپ کے دل کے کھٹکے کا سیدھا جواب موجود ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ معاف کرنے سے کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا، قدر گھٹ جائے گی، اور فرمایا جا رہا ہے کہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ جیسے صدقہ دیتے وقت تجوری خالی ہوتی دکھائی دیتی ہے مگر برکت بڑھ جاتی ہے، اسی طرح معاف کرتے وقت لگتا ہے کہ ہم جھک گئے، حالانکہ ہم بلند ہو رہے ہوتے ہیں۔ اور جسے اللہ عزت دے، اُس کی عزت دنیا کا کوئی فائدہ اٹھانے والا گھٹا نہیں سکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نرمی کا مطلب ہر بات پر خاموش ہو جانا اور ہر زیادتی سہہ لینا ہے؟ نہیں۔ اس کا نمونہ خود آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے:

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہ لیا، ہاں جب اللہ کی حدوں کو پامال کیا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر بدلہ لیتے۔“

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، صحیح بخاری (۳۵۶۰) · مفہوم

توازن دیکھیے۔ اپنی ذات کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریا سے زیادہ نرم تھے، کوئی گالی دیتا یا ستاتا تو درگزر فرما دیتے۔ لیکن جہاں حق اور انصاف کا معاملہ آتا، وہاں آپ چٹان کی طرح مضبوط تھے۔ یہی راستہ آپ کے لیے بھی ہے۔ اپنی ذاتی رنجش اور معمولی تکلیف پر معاف کر دیجیے، اور جہاں اصول کی بات ہو وہاں نرمی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہیے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ظلم کو ظلم نہ کہا جائے یا کسی کو حق پامال کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ نرمی اور حد ایک دوسرے کی مخالف نہیں، ایک ہی دل کے دو ہاتھ ہیں۔ یہ بات ہم اپنے اندر خاموشی سے محسوس بھی کرتے ہیں کہ جو دل معاف بھی کر دے اور ایک حد بھی قائم رکھے، اُس کی عزتِ نفس سلامت رہتی ہے، اور جو بغیر کسی حد کے ہر بار دبتا چلا جائے، اُس کے اندر کی روشنی آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگتی ہے۔

اور جو ڈر ہے کہ لوگ فائدہ اٹھائیں گے، اُس کا علاج قرآن نے بتا دیا ہے:

”اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتیں۔ برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست ہو۔“

قرآن، سورۃ حم السجدہ ۴۱:۳۴ · مفہوم

سختی سے بحث جیتی جا سکتی ہے، دل صرف نرمی سے جیتا جاتا ہے، اور دشمن کو دوست بنا دینا وہ طاقت ہے جو سختی سے کبھی خریدی نہیں جا سکتی۔ ناجائز فائدہ اٹھانے والے گنے چنے ہوتے ہیں اور اُن کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ اُن کے مقابلے میں وہ دل بے شمار ہیں جو آپ کی نرمی سے پگھل کر ہمیشہ کے لیے آپ کے اپنے ہو جاتے ہیں۔ سو نرمی کم نہ کیجیے، اس کے ساتھ سمجھ داری رکھیے، اور پھر دیکھیے کہ جسے آپ کمزوری سمجھ رہے تھے، وہ دراصل آپ کی سب سے بڑی قوت تھی۔

ایک چھوٹا قدم: آج کسی ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچیے جس کی کسی بات نے آپ کو دکھ دیا، اور دل ہی دل میں اسے معاف کر دیجیے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔ اور جہاں حق کا معاملہ ہو، وہاں نرمی مگر مضبوطی سے اپنی بات رکھیے، بغیر دل میں میل لائے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔