دل کے سوال

جب میں پریشان حال گھر آتا ہوں، تو کبھی کبھی بیوی اور بچوں پر برس پڑتا ہوں اور بعد میں پچھتاتا ہوں۔ کیا کام کی تھکن کو گھر کے دروازے کے اندر لے آنا غلط ہے؟

Ghar aakar biwi bachon par ghussa

بھائی، بعد میں جو پچھتاوا ہوتا ہے وہ بے کار نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود بھی یہ نہیں چاہتے، اور بات یہیں سے شروع ہوتی ہے۔

دن بھر کا بوجھ آدمی گھر تک ساتھ لے آتا ہے۔ کام کا دباؤ، تھکن، وہ باتیں جو گھر سے دور بگڑیں، اور پھر بے اختیار وہ سب اپنوں پر چھلک جاتا ہے۔ یہ کوئی سنگدلی نہیں، بھرا ہوا دل ایسا ہی کرتا ہے جب اسے بوجھ اتارنے کا طریقہ نہ سکھایا گیا ہو۔ جو طاقت آپ چاہ رہے ہیں، نبی کریم ﷺ نے اسی کا نام لیا ہے۔

”طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۱۱۴) · مفہوم

غور کیجیے، طاقت کی تعریف کیا رکھی گئی۔ دوسرے کو پچھاڑ دینے والا زور نہیں، بلکہ اپنے آپ پر وہ خاموش قابو جو غصے کے وقت ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اور یہ قابو ہر بار فوراً حاصل نہیں ہوتا، اسی لیے آپ ﷺ نے صحابہ کے سامنے اس تک پہنچنے کا راستہ بھی بتا دیا۔

”حضرت سلیمان بن صُرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو آدمی نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک غصے میں اپنے ساتھی کو گالیاں دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو جو کیفیت اس پر طاری ہے وہ اس سے دور ہو جائے۔ کاش یہ کہہ لے: میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۱۱۵) و صحیح مسلم (۲۶۱۰a) · مفہوم

سرخ چہرے والے کو نہ ڈانٹا، نہ مجلس میں شرمندہ کیا۔ صرف ایک کلمہ سامنے رکھ دیا، دل کا رخ اللہ کی طرف پھیر دینے والا کلمہ، اور آگ اسی سے ٹھنڈی پڑنے لگتی ہے۔ ہماری نقشبندی مجددی روایت میں دل کی نگرانی پر، یعنی ہر وقت اپنے باطن پر نظر رکھنے پر، بہت زور دیا گیا ہے، اور غصے کے لمحے میں یہی نگرانی ڈھال بن جاتی ہے۔ گھر پہنچتے وقت دل بوجھل ہو تو دروازے سے پہلے دو گھڑی رک جانا، ایک لمبی سانس لینا، اور دل میں اتنا کہہ لینا کہ اندر جو لوگ ہیں وہی میرا سکون ہیں، ان پر تھکن نہیں اتاروں گا۔ اور اگر کبھی سخت لفظ نکل بھی جائے تو ہمت نہ ہاریے، اسی وقت معافی مانگ لینا اور بچوں کو گلے لگا لینا محبت کو اور مضبوط کر دیتا ہے۔

تو نہیں، دہلیز پر دن کا بوجھ محسوس ہونا آدمی کو برا نہیں بنا دیتا۔ بات صرف اتنی ہے کہ باہر کی دنیا اور گھر کے درمیان ایک چھوٹی سی حد ابھی بنی نہیں۔ یہ حد آج شام سے بن سکتی ہے، گھر والوں کے لیے بھی اور اپنے لیے بھی۔

ایک چھوٹا قدم: آج گھر پہنچیں تو دروازہ کھولنے سے پہلے وہیں رک کر تین بار گہری سانس لیں اور آہستہ سے کہیں ”اللہ، مجھے نرمی عطا فرما“، پھر مسکرا کر اندر قدم رکھیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔