جھگڑے کے بعد میری اور میری بیوی کی بات چیت تقریباً بند ہے اور پورا گھر بوجھل لگتا ہے۔ کشیدگی کے وقت نبی کریم اپنی ازواج کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے؟
Biwi se jhagre ke baad khamoshi
بھائی، گھر میں جو خاموشی چھا گئی ہے اور بات چیت جو رُک گئی ہے، اِس سے یہ نتیجہ نہ نکالیے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والوں میں کبھی کبھار ایسی رنجش آ جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اِس کے بعد قدم کون بڑھاتا ہے۔
دیکھیے، نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں کیسے رہتے تھے۔ آپ ﷺ اپنی زوجہ کے دل کی کیفیت اِس طرح پہچانتے تھے کہ خود اِس کا اظہار فرمایا:
”نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میں خوب جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۲۲۸) · مفہوم
غور کیجیے، آپ ﷺ نے ناراضی کو نہ نظرانداز فرمایا، نہ خود کنارہ کش ہو کر یہ انتظار کیا کہ دوسری طرف سے بات بنے، اور نہ یہ چاہا کہ دل کی بات چھپائی جائے۔ آپ ﷺ نے نرمی سے جتا دیا کہ میں تمہارا دل پہچانتا ہوں۔ جھگڑے کی آدھی گرمی وہیں ٹھنڈی پڑ جاتی ہے جب سامنے والے کو یہ محسوس ہو کہ اُسے ہرایا نہیں جا رہا، سمجھا جا رہا ہے۔
اور جب فضا ہلکی کرنی ہوتی، آپ ﷺ لمبی باتیں نہیں فرماتے تھے، اپنائیت اور ہلکے پھلکے مزاح سے کام لیتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بیان فرماتی ہیں:
”سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دوڑ لگائی اور میں آپ ﷺ سے آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو میں نے دوبارہ دوڑ لگائی اور آپ ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اُس کے بدلے میں ہے۔“
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سنن ابی داؤد (۲۵۷۸) · مفہوم
آج کے زمانے میں ازدواجی زندگی پر تحقیق کرنے والے بھی وہیں پہنچے ہیں جو سنت نے صدیوں پہلے بتا دیا تھا۔ جو گھر بستے ہیں، اُن میں جھگڑا نہیں ہوتا، بات یہ نہیں، بات یہ ہے کہ وہاں ایک ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اُسے تھام لیتا ہے۔ ہمارے ہاں بوجھ زیادہ تر اِسی انتظار سے بڑھتا ہے کہ پہل دوسرا کرے۔
تو کوشش یہ نہ کیجیے کہ بحث جیت لی جائے، کوشش یہ کیجیے کہ دل تک پہنچ جائیں۔ ایک پیالی چائے، ایک پرانی بات جو صرف آپ دونوں جانتے ہیں، ایک ہلکا سا مزاح، یہی وہ چھوٹی چھوٹی دوڑیں ہیں جو گھر کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہیں۔
ایک چھوٹا قدم: آج بحث دوبارہ چھیڑے بغیر اپنی اہلیہ کے لیے کوئی ایک چھوٹی سی بات کیجیے، چائے بنا کر پیش کر دیجیے، یا کوئی پرانی خوشگوار بات چھیڑ دیجیے، اور اِسی سے واپسی کا پہلا قدم اٹھا لیجیے۔
