دل کے سوال

ہماری محفلوں میں مَیں لوگوں کو خاموش ذکر کرتے دیکھتا ہوں، زبان ہلائے بغیر دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرتے ہوئے۔ اس ذکرِ خفی کی دلیل کہاں ہے؟ مجھے ڈر ہے کہیں یہ کوئی خود ساختہ عمل نہ ہو۔

Zikr e khafi yani khamosh zikr

محفلوں میں جو خاموش ذکر آپ نے دیکھا، آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کی سند کہاں ہے۔ سنیے، ذکرِ خفی یعنی دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرنا کوئی نئی ایجاد نہیں، اس کی بنیاد خود قرآن نے رکھی ہے۔

دیکھیے، اللہ تعالیٰ ذکر کا انداز خود سکھاتے ہیں،

”اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو، عاجزی اور خوف کے ساتھ، اور آواز کو بلند کیے بغیر۔“

قرآن، سورۃ الاعراف ۷:۲۰۵ · مفہوم

آیت کی دو باتوں پر غور کیجیے۔ ایک، یاد اپنے دل کے اندر ہو۔ دوسری، آواز بلند نہ ہو۔ یہی خاموش اور باطنی ذکر ہے، زبان ساکت اور دل بولتا ہوا۔ جس عمل کا نقشہ آیت خود کھینچ رہی ہو، وہ خود ساختہ کہاں رہا۔ نقشبندی سلسلے میں ذکرِ خفی کا معمول انہی الفاظ کے سہارے قائم ہے، اس سے زیادہ کسی دلیل کی ضرورت بھی نہیں۔

اور دل کی خاموش پکار اُس تک کیوں نہ پہنچے، جب وہ نفس کی سرگوشی تک جانتا ہے،

”اور بےشک ہم نے انسان کو پیدا کیا، اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اُس کا نفس اُس کے دل میں ڈالتا ہے، اور ہم اُس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں۔“

قرآن، سورۃ ق ۵۰:۱۶ · مفہوم

یہاں بلند آواز کا ذکر ہی نہیں، سرگوشی کا ذکر ہے، یعنی وہ بات جو ہونٹوں تک آتی ہی نہیں۔ جو رب شہ رگ سے زیادہ قریب ہو، اُسے سنانے کے لیے آواز اونچی کرنے کی حاجت کیا۔ دل میں لیا ہوا نام پورا پورا اُس کے حضور پہنچتا ہے۔ آدمی کی سب سے سچی تمنائیں اکثر وہی ہوتی ہیں جو زبان پر نہیں آتیں، اور اسی طرح دل کا خاموش ذکر سب سے کھرا کلام بن جاتا ہے، نہ اس میں دکھاوا، نہ شور، بس بندہ اور اُس کا رب۔

سو یہ فکر دل سے نکال دیجیے۔ محفلوں میں جو آپ نے دیکھا، وہ اپنی طرف سے گھڑا ہوا کوئی عمل نہیں، وہی ادب ہے جس کی دعوت خود رب نے دی ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج رات سوتے وقت آنکھیں بند کر کے، ہونٹ ہلائے بغیر، دل ہی دل میں گیارہ بار اللہ کا نام لیجیے، زبان خاموش رہے اور دل بولے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔