دل کے سوال

میں اجنبیوں اور ساتھیوں کے ساتھ نرم اور خوش اخلاق ہوں، مگر گھر میں اپنے ہی گھر والوں کے ساتھ تلخ اور چڑچڑا ہوں۔ جو مجھ سے سب سے قریب ہیں، انہی کے ساتھ رحم دلی سب سے مشکل کیوں ہے؟

Ghar walon ke saath ghussa narmi

آپ نے اپنے بارے میں جو بات محسوس کی ہے، وہ حقیقت ہے، اور اِسے محسوس کر لینا ہی پہلا قدم ہے۔ یہ آپ کی طبیعت کا کوئی نقص نہیں، گھر کی ایک عادت ہے، اور ایسی عادت میں بہت سے نرم مزاج لوگ بغیر کسی بدنیتی کے پڑ جاتے ہیں۔

سبب پر غور کیجیے۔ باہر ہم نرم رہتے ہیں، اِس لیے کہ وہاں ابھی اپنی جگہ بنانی ہوتی ہے، ساکھ کا خیال رہتا ہے، اور ہم اپنا بہترین رُخ سامنے رکھتے ہیں۔ گھر میں ہم بے تکلف ہو جاتے ہیں اور دن بھر کی تھکن، جھنجھلاہٹ اور بوجھ وہیں اُتار دیتے ہیں۔ یعنی جن کی محبت پر ہمیں سب سے زیادہ بھروسا ہے، اُسی محبت کے معاملے میں ہم سب سے زیادہ بے احتیاط ہو جاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لینے میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں، اِسی سمجھ سے راستہ کھلتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے آدمی کی پرکھ کا پیمانہ وہیں رکھا ہے جہاں آپ کو دشواری پیش آ رہی ہے، یعنی گھر میں:

”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“

نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۳۸۹۵) · مفہوم

باہر کی نرمی اپنی جگہ اچھی ہے، مگر اخلاق کا فیصلہ محفلوں میں یا اجنبیوں کے درمیان نہیں ہوتا۔ وہ رسوئی میں ہوتا ہے، تھکی ہوئی شام میں، اور اُس ایک نرم لفظ میں جو گھر والوں سے کہا جائے۔

اور ایمان کی تکمیل کو بھی آپ ﷺ نے اِسی بات سے جوڑا:

”مومنوں میں سب سے کامل ایمان اُن کا ہے جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہیں۔“

نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۱۱۶۲) · مفہوم

تو نرمی آپ کے اندر موجود ہے، کمی اُس کی نہیں۔ آپ روز اُسے خرچ کرتے ہیں۔ بس اُسے چند قدم اور آگے لے جانا ہے، اپنے گھر کی دہلیز کے اندر، اُن لوگوں تک جنہیں اِس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ایک بات اِن ارشادات کے ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ اللہ تعالیٰ نے دینی ذمہ داری کا پہلا دائرہ ہمارا اپنا گھر رکھا ہے، اور مفسرین نے اِس حکم کو یہی سمجھا ہے کہ گھر والوں کو دین سکھایا جائے اور بھلائی کی طرف اُن کی رہنمائی کی جائے:

”اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“

قرآن، سورۃ التحریم ۶۶:۶ · مفہوم

بزرگوں نے اِس سے ایک سادہ سبق لیا ہے۔ جن لوگوں کی رہنمائی میرے سپرد ہوئی ہے، میرے اخلاق پر پہلا حق اُنہی کا ہے، اُس بچی کھچی طبیعت پر نہیں جو دن بھر کے بعد باقی رہ جائے۔ بات دل تک اُسی لہجے کے سہارے پہنچتی ہے جس لہجے میں کہی جائے۔ اور یہ کام اتنا مشکل نہیں جتنا ہم سمجھ لیتے ہیں، اِس لیے کہ یہی لوگ ہم سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور سب سے جلد معاف بھی کر دیتے ہیں۔

ایک چھوٹا قدم: آج گھر میں داخل ہونے سے پہلے دروازے پر ایک لمحہ رُکیے، ایک گہری سانس لیجیے، اور اندر جا کر سب سے پہلے گھر والوں کو وہی نرم سلام اور کھلا چہرہ دیجیے جو آپ کسی معزز مہمان کو دیتے ہیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔