میں کمانے میں اتنا مصروف ہوں کہ اپنے چھوٹے بچوں کو جاگتے ہوئے مشکل سے دیکھ پاتا ہوں۔ وہ بعد میں سمجھ جائیں گے کہ یہ سب ان ہی کے لیے تھا، ہے نا؟
Kamane mein masroof bachon se doori
آپ کی محنت کی نیت پر کوئی شک نہیں۔ دن رات ایک کر رکھا ہے تاکہ بچوں کا کل آسان ہو، اور اللہ یہ محنت دیکھ رہا ہے۔ مگر ایک بات ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ہے۔ بچے کل یہ سمجھ بھی جائیں کہ سب کچھ انہی کے لیے تھا، لیکن جو دن آج گزر رہے ہیں وہ لوٹ کر نہیں آتے۔ بچپن ایک ہی بار آتا ہے، اور اس وقت باپ کا پاس ہونا بچے کو وہ چیز دیتا ہے جو کمائی سے نہیں خریدی جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے کندھوں پر صرف رزق کا بوجھ نہیں رکھا، گھر والوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی رکھی ہے۔
”اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“
قرآن، سورۃ التحریم ۶۶:۶ · مفہوم
حکم بچانے کا ہے، اور بچانا صرف جسم کا نہیں، ایمان کا بھی ہے، اخلاق کا بھی، اللہ سے تعلق کا بھی۔ یہ چیزیں دور سے بھیجی نہیں جا سکتیں۔ یہ ساتھ رہنے سے منتقل ہوتی ہیں، روزمرہ کے عام لمحوں میں۔ بچہ نماز باپ کو دیکھ کر سیکھتا ہے، نرمی باپ سے سیکھتا ہے، لوگوں سے معاملہ کرنے کا سلیقہ بھی وہیں سے آتا ہے۔ اور دیکھنے کے لیے باپ سامنے ہونا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے اسی ذمہ داری کو ایک سادہ مثال سے سمجھایا ہے۔
”تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۸۹۳) · مفہوم
نگہبان صرف چارہ بھیجنے والا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ریوڑ میں پھرتا ہے، ہر ایک کو جانتا ہے، موجود رہتا ہے۔ اس لیے بات کمائی چھوڑنے کی نہیں، اسی مصروفیت میں سے تھوڑا وقت بچوں کے نام کرنے کی ہے۔ جن لوگوں نے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھا ہے، وہ ایک ہی بات کہتے ہیں۔ بڑا ہو کر بچے کو یہ یاد نہیں رہتا کہ باپ نے دیر تک کام کر کے گھر کا معیار کہاں تک پہنچایا تھا، اسے وہ شامیں یاد رہتی ہیں جب باپ پاس بیٹھا تھا، کوئی بات سنائی تھی، اور اس کی بات سنی تھی۔
اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں، صرف رخ ذرا بدلنے کی بات ہے۔ آج کے زمانے میں مرد اپنے باپ ہونے کو کمائی سے ناپتا ہے، اور کوئی اسے بتاتا نہیں کہ بچے کچھ اور گن رہے ہیں۔ آپ نے ان کا حق نہیں مارا، محبت ایک ہاتھ سے دیتے رہے اور وہ دوسرے ہاتھ کی طرف دیکھتے رہے۔ تسلی کی بات یہ ہے کہ موجودگی گھنٹوں سے نہیں ناپی جاتی۔ چند منٹ بھی بغیر جلدی کے، پورے دل سے دیے جائیں تو بچے کے دل میں عمر بھر رہتے ہیں۔
ایک چھوٹا قدم: دن میں ایک وقت مقرر کر لیں جو صرف بچوں کا ہو، ناشتے کا وقت ہو یا سونے سے پہلے کے پندرہ منٹ، اور اس کی حفاظت اسی طرح کریں جس طرح اپنے کام کے وقت کی کرتے ہیں۔
