Questions of the Heartدل کے سوال
Character & Dealingsاخلاق اور معاملات

When my friends complain about someone who genuinely wronged them, am I backbiting if I just agree, or is it fair because it is all true?جب میرے دوست کسی ایسے شخص کی شکایت کرتے ہیں جس نے واقعی ان پر ظلم کیا ہو، اور میں صرف ہاں میں ہاں ملا دوں تو کیا یہ غیبت ہے، یا یہ جائز ہے کیونکہ سب سچ ہے؟

The words are accurate, the wrong was real, and agreeing feels like nothing more than standing with the person who was injured. That is exactly why the matter is worth looking at slowly, because the rule the Prophet gave here is not the rule most of us are carrying in our hearts.

What most of us carry is a quiet assumption: if it is true, it cannot be backbiting. Listen to how the Prophet, peace be upon him, answered that very objection when it was put to him.

“Do you know what backbiting is? They said: Allah and His Messenger know best. He said: To mention your brother in a way he dislikes. It was said: What if what I say of him is true? He said: If what you say of him is true, you have backbitten him; and if it is not, you have slandered him.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2589) · meaning

So truthfulness is not the escape from backbiting. Truthfulness is the very thing that makes it backbiting, because if the words were false the fault would simply have another name, slander, and a heavier one. The unease you feel when you “just agree” is not oversensitivity. Your heart is registering something real.

The Qur’an gives the matter an image that stays with a person, so that guarding someone’s honour stops feeling like a restriction and starts feeling like the natural thing to want.

“And do not backbite one another. Would one of you like to eat the flesh of his dead brother? You would hate it.”

Qur’an, Al-Hujurat 49:12 · meaning

None of this asks you to abandon a friend who was wronged. Stand with the one who was hurt, comfort them, help them get their right, and where there is a genuine need, a warning that must be given or a wrong that must be set straight, speak of the matter with care. What is being asked of you is smaller than it first looks: only the extra agreeing, the comfortable dwelling on someone’s fault when nothing is repaired by it. Better to turn the talk toward help, that Allah give them justice, or that the matter be put to the person himself or to someone with the authority to settle it. Guard the absent one’s honour as you would want yours guarded, and the friendship loses nothing. It gets cleaner, and more trusted.

One small step: The next time a conversation turns to someone’s fault, give your friend one sentence of sympathy for the pain, then turn the talk toward what would actually help them, instead of adding to the list of what the absent person did.

بات سچی ہے، زیادتی واقعی ہوئی ہے، اور دوست کے دکھ میں ہاں میں ہاں ملانا اس وقت ساتھ دینے ہی کا نام لگتا ہے۔ اسی لیے یہ معاملہ ذرا ٹھہر کر دیکھنے کا ہے، کیونکہ غیبت کی جو تعریف ہمیں سکھائی گئی ہے، وہ اس تعریف سے مختلف ہے جو عام طور پر ہمارے ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔

ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ سچی بات کہنے میں کیا حرج، غیبت تو جھوٹ کا نام ہے۔ اسی خیال پر آقائے کریم ﷺ کے سامنے سوال رکھا گیا تھا۔ جواب سنیے۔

”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا، تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ عرض کیا گیا، اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟ فرمایا، اگر وہ بات اس میں ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۸۹) · مفہوم

یعنی سچ ہونا غیبت سے بچنے کی دلیل نہیں، سچ ہونا ہی تو غیبت کی پہچان ہے۔ بات جھوٹی ہو تو معاملہ ہلکا نہیں ہوتا، اس کا نام بدل کر بہتان ہو جاتا ہے، اور وہ اس سے بھی بھاری ہے۔ اس لیے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے جو کھٹک دل میں ہوتی ہے، وہ بےجا نہیں۔ دل ایک حقیقت کو پہچان رہا ہوتا ہے۔

قرآن کریم نے اس بات کو ایسی مثال سے سمجھایا ہے جو ذہن سے اترتی نہیں، تاکہ کسی کی آبرو کی حفاظت ہمیں پابندی نہ لگے، بلکہ کسی غیر حاضر کی عزت اچھالنا خود ہی دل کو گراں گزرے۔

”اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تو تم اسے ناپسند کرو گے۔“

قرآن، سورۃ الحجرات ۴۹:۱۲ · مفہوم

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم دوست کو تنہا چھوڑ دیا جائے۔ اس کے دکھ میں شریک ہوں، تسلی دیں، اس کا حق دلانے میں مدد کریں، اور جہاں واقعی ضرورت ہو، جیسے کسی کو خبردار کرنا ہو یا کوئی بگڑا معاملہ درست کرانا ہو، وہاں احتیاط کے ساتھ بات بھی کی جا سکتی ہے۔ چھوڑنی صرف وہ فالتو تائید ہے، کسی کی برائی کو مزے لے کر دہرانا، جس سے نہ کسی کا نقصان پورا ہوتا ہے نہ کسی کی اصلاح۔ بہتر ہے بات کو مدد کی طرف موڑ دیں، مثلاً یہ کہ اللہ انصاف فرمائے، یا یہ کہ معاملہ اسی شخص کے سامنے یا کسی صاحبِ اختیار کے سامنے رکھا جائے جو اسے سلجھا سکے۔ اس طرح دوست کے زخم پر مرہم بھی رکھ دیا، اور غیر حاضر کی عزت پر آنچ بھی نہ آئی۔ بزرگانِ نقشبندیہ مجددیہ اسی کو زبان کی نگہبانی کہتے ہیں، کہ دوسروں کے دکھ میں شریک ہوں، مگر کسی کی عزت کی قیمت پر نہیں۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار جب مجلس کسی غیر حاضر شخص کی شکایت کی طرف مڑے، تو ایک جملہ دوست کی دل جوئی کا کہیں، اور پھر بات اس طرف لے جائیں کہ اس کی مدد کیسے ہو سکتی ہے، نہ یہ کہ غیر حاضر شخص کی برائیوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ کر دیں۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔