دل کے سوال

میں اچھا کماتا ہوں لیکن مجھے سب کچھ کھو دینے کا شدید خوف ہے۔ زیادہ ہونے سے میری بےچینی اور کیوں بڑھ جاتی ہے؟

Sab kuch khone ka khauf

یہ ڈر بےسبب نہیں۔ رب نے آپ کو نوازا ہے، اور جو چیز عزیز ہوتی ہے، اُس کے چھن جانے کا خیال سینے پر بوجھ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہاتھ میں جتنا زیادہ آتا ہے، بےچینی اُتنی ہی کیوں بڑھتی ہے۔ اِس کی ایک وجہ ہے، اور وجہ سمجھ میں آ جائے تو بوجھ خود ہلکا ہونے لگتا ہے۔

پہلی بات یہ کہ دل ہم سب کے ساتھ ایک چال چلتا ہے۔ زبان سے کہے بغیر ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمیں تھامنے والی اور محفوظ رکھنے والی چیز ہمارا مال ہے۔ قرآنِ کریم نے اِسی ٹیک کو بڑی سنجیدگی سے بیان کیا اور خبردار کیا کہ کہیں انسان یہ گمان نہ کر بیٹھے کہ جوڑا ہوا مال اُسے ہمیشہ قائم رکھے گا۔

”جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا۔ وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔“

قرآن، سورۃ الھمزۃ ۱۰۴:۲-۳ · مفہوم

یہ سخت تنبیہ ہے، اور میں اِسے ہلکا کر کے پیش نہیں کروں گا۔ مگر دیکھیے، آیت میں جس گنتی کا ذکر ہے وہ فخر کرنے والے دل کی گنتی ہے۔ آپ کے سینے میں جو ہے وہ اور چیز ہے، وہ اُس دل کی بےچینی ہے جو خاموشی سے وہاں ٹیک لگانے لگا ہے جہاں سہارا صرف اللہ کا ٹھہرتا ہے۔ اِس لیے اِس آیت کو اپنی طرف اٹھی ہوئی انگلی نہ سمجھیے، اندھیرے راستے میں بلند کیا ہوا چراغ سمجھیے، جو صرف یہ دکھاتا ہے کہ دل کا بوجھ کہاں جا کر ٹکا ہے۔ آج کے دور میں جو لوگ انسانی ذہن کا مطالعہ کرتے ہیں، اُنہوں نے بھی یہی بات پائی ہے کہ کھونے کا دکھ، پانے کی خوشی سے بھاری ہوتا ہے۔ یعنی جتنا زیادہ ہاتھ میں ہوگا، پہرہ اُتنا ہی بڑھے گا، اور یہی پہرہ آگے چل کر خود ایک بوجھ بن جاتا ہے۔

اِس کے بعد قرآنِ کریم صاف بتا دیتا ہے کہ مال دراصل کیا ہے، تاکہ ہم اُسے اُس کی اصل جگہ پر رکھ دیں۔

”بےشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔“

قرآن، سورۃ التغابن ۶۴:۱۵ · مفہوم

آزمائش، اور امانت۔ جب دل یہ مان لیتا ہے کہ مال شروع ہی سے اپنا نہ تھا، مالکِ حقیقی نے کچھ دیر کے لیے ہاتھ میں رکھا تھا، تو گھبراہٹ کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ اِسی کا نام توکل ہے، اور توکل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، ملکیت اُس کے اصل مالک کے حوالے کر دینے کا سکون ہے۔ امین راتوں کو اُس طرح نہیں جاگتا جیسے ایک ڈرا ہوا مالک جاگتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل مالک دیکھ بھی رہا ہے اور کریم بھی ہے۔

اور پھر بھی اگر بےچینی دروازہ کھٹکھٹائے، تو قرآنِ کریم اُس تالے کی کنجی خود تھما دیتا ہے۔

”وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہو جاتے ہیں، سن لو، اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو قرار آتا ہے۔“

قرآن، سورۃ الرعد ۱۳:۲۸ · مفہوم

تو مال رکھیے، اُس سے فائدہ اٹھائیے، اُس کے اچھے امین بنیے۔ بس قدم ذکر پر جمے رہیں، حساب کے ہندسوں پر نہیں۔ جس نے دیا ہے، وہ اِسے سنبھالنے پر آپ کی گھبرائی ہوئی مٹھی سے کہیں زیادہ قادر ہے، اور جو دل اُسے یاد رکھتا ہے، وہ اُس امن میں رہتا ہے جسے کوئی بازار ہلا نہیں سکتا۔

ایک چھوٹا قدم: جب بھی دل میں کھونے کا خوف اٹھے، اُسی وقت رک کر سات بار آہستہ سے کہیے، اللہ ہی میرے لیے کافی ہے، اور ہر بار بوجھ کا ایک حصہ اُسی کے حوالے کرتے جائیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔