دل کے سوال

کیا یہ واقعی سچ ہے کہ میرے روزمرہ کے معاملات، خرید و فروخت، کام کاج، عبادت شمار ہو سکتے ہیں، یا عبادت صرف وہی ہے جو مسجد میں ہوتی ہے؟

Roz marra kaam bhi ibadat hai

نہیں، عبادت صرف مسجد کے اندر کی چیز نہیں۔ ہم میں سے بہت لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ مصلّہ اور مسجد ہی عبادت کی جگہ ہے، اور دن بھر کا کاروبار، لین دین، دفتر کی محنت اور گھر کی خدمت کوئی الگ، دنیاوی معاملہ ہے۔ دین نے زندگی کو اِس طرح ٹکڑوں میں نہیں بانٹا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوری زندگی مانگی ہے، کوئی ایک کونا نہیں۔

دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کی زبان سے کتنی جامع بات کہلوائی ہے۔

”کہہ دیجیے، بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“

قرآن، سورۃ الانعام ۶:۱۶۲ · مفہوم

نماز اور قربانی کے ساتھ ہی ”میرا جینا“ بھی رکھ دیا گیا، اُسی سانس میں، اُسی رب کے نام پر۔ تو صبح روزی کے لیے نکلنا، سودا ٹھیک تولنا، مزدور کی مزدوری پوری دینا، کسی مشکل گاہک کے ساتھ صبر سے پیش آنا، یہ سب آپ کا جینا ہے، اور یہ جینا اللہ کے حوالے ہو چکا۔ گھر کے اندر کا معمولی سا کام بھی بےقدر نہیں رہتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”تم جو کچھ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہو اُس کا اجر تمہیں ملتا ہے، حتیٰ کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھتے ہو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۵۶ / مسلم ۱۶۲۸) · مفہوم

اور یہ بھی نہ سمجھیے کہ نمازی آگے نکل گیا اور کمانے والا پیچھے رہ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے مسجد اور بازار، دونوں کو ایک ہی فہرست میں شمار فرمایا ہے۔

”ہر اُس دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، انسان کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ لازم ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرا دینا صدقہ ہے، کسی کو اُس کی سواری پر سوار کرا دینا یا اُس کا سامان اُٹھا کر اُس پر رکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کی طرف اُٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے، اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۹۸۹) و صحیح مسلم (۱۰۰۹) · مفہوم

نماز کی طرف بڑھنے والا قدم اور دو آدمیوں کے درمیان انصاف کا فیصلہ، دونوں ایک ہی فہرست میں، ایک ہی نام سے، صدقہ ٹھہرے۔ کسی کا سامان اُٹھا کر اُس کی سواری پر رکھ دینا، ایک اچھی بات کہہ دینا، راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا، اِن میں سے ہر ایک اُسی طرح صدقہ ہے جس طرح نماز کی طرف اُٹھنے والا قدم صدقہ ہے۔ تو دکان پر ٹھیک تولنا، گاہک کی سختی پر صبر کر لینا، کسی کے بوجھ کے نیچے ہاتھ دے دینا، یہ آپ کی عبادت میں وقفہ نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ کا رب اُسے قبول فرما رہا ہے۔ ہمارے نقشبندی طریقے میں ایک اصول ہے، خلوت در انجمن، یعنی مجمع میں تنہائی· ہاتھ بازار میں مصروف ہوں اور دل خاموشی سے اللہ کی طرف لگا رہے۔ اُسے پانے کے لیے دنیا چھوڑ کر کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ کاروبار کی یہی گہماگہمی ذکر کی جگہ بن سکتی ہے، بس لین دین کے ساتھ ساتھ اُس کا نام دل میں چلتا رہے۔

ایک چھوٹا قدم: کل کام شروع کرنے سے پہلے ایک لمحہ رُک کر دل میں کہہ لیجیے، ”یا اللہ، یہ بھی تیرے لیے ہے۔“ پھر یہی ایک نیت سارا دن ساتھ رکھیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔