جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو میرا ذہن ہر طرف بھٹکنے لگتا ہے، کام کی طرف، فون کی طرف، فکروں کی طرف۔ کیا وہ نماز قبول ہوتی ہے جس میں دل کبھی حاضر ہی نہ ہوا؟
Namaz mein zehan bhatakta rehta hai
پہلی بات تو یہ کہ جو بے چینی آپ کو ستا رہی ہے، اُس پر ذرا ٹھہر کر غور کیجیے۔ جس دل میں نماز کی محبت نہ ہو، اُسے یہ غم لاحق ہی نہیں ہوتا کہ میرا دھیان کہاں بھٹک گیا۔ سو بات یہیں سے شروع کیجیے، مایوسی سے نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نماز میں جو چیز ہم سے چاہی ہے، اُسے ایک ایسی منزل کے طور پر بیان فرمایا ہے جس کی طرف بندہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے:
”یقیناً وہ ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں خشوع اور عاجزی اختیار کرتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المؤمنون ۲۳:۱-۲ · مفہوم
خشوع دل کی وہی عاجزی اور حاضری ہے جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں۔ دیکھیے، یہ کامیاب لوگوں کی صفت کے طور پر آیا ہے، یعنی ایک منزل، نہ کہ ایسا دروازہ جو ابھی نہ پہنچنے والوں پر بند کر دیا گیا ہو۔ بلاوا اسی طرف چلنے کا ہے۔
رہا ذہن کا کام کی طرف، موبائل کی طرف، سو طرح کی چھوٹی چھوٹی فکروں کی طرف نکل جانا، تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر صاف بات ارشاد فرمائی ہے۔ اس میں تنبیہ بھی ہے اور اسی تنبیہ کے اندر ایک اُمید بھی رکھی ہوئی ہے:
”بندہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے اور اس کے لیے اس کی نماز کا صرف دسواں حصہ ہی لکھا جاتا ہے، یا نواں، یا آٹھواں، یا ساتواں، یا چھٹا، یا پانچواں، یا چوتھا، یا تیسرا، یا آدھا۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ابی داؤد (۷۹۶) · مفہوم
غور کیجیے، جتنی دیر دل حاضر رہا، اُتنا حصہ لکھ لیا گیا اور محفوظ کر لیا گیا۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں، اور یہی حصہ ایک ایک نماز کرکے بڑھتا بھی چلا جا سکتا ہے۔ یہ بات ہمیں حضوری کی طرف کھینچنے کے لیے کہی گئی ہے، مایوس کرکے پیچھے دھکیلنے کے لیے نہیں۔
اور اہلِ علم نے اس معاملے میں ہمارے ساتھ وہ نرمی برتی ہے جو ہم خود اپنے ساتھ نہیں برتتے۔ اُن کی بات یہ ہے کہ نماز میں جو خیال بن بلائے آ جائے اور بندہ اُسے دل میں جگہ نہ دے، اُس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ خیال کا بھٹک جانا بجائے خود گناہ نہیں۔ آپ سے صرف اتنا چاہا جا رہا ہے کہ بار بار، بغیر کسی ہنگامے کے، لوٹ آیا کیجیے۔
اور سورۃ الماعون میں جس غفلت پر وعید آئی ہے، وہ معاملہ بالکل اور ہے:
”پس خرابی ہے اُن نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز ہی سے غافل ہیں۔“
قرآن، سورۃ الماعون ۱۰۷:۴-۵ · مفہوم
الفاظ ملاحظہ کیجیے، “اپنی نماز سے غافل”، یہ نہیں فرمایا “اپنی نماز میں غافل”۔ وعید اُس کے لیے ہے جو نماز کو اپنی زندگی سے ہی نکال بیٹھے، اُس کے لیے نہیں جو نماز میں کھڑا ہو کر دھیان جمانے کی کوشش کر رہا ہو۔ آپ کھڑے تو ہو رہے ہیں۔ یہ بالکل الگ بات ہے۔
آج کے زمانے میں جو لوگ توجہ پر تحقیق کرتے ہیں، اُن کی بات بھی اسی طرف جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ذہن ہمارے جاگنے کے تقریباً آدھے وقت میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رہتا ہے، اور حاضری کوئی بٹن نہیں جسے دبا کر آن کر لیا جائے، بلکہ ایک ہنر ہے جو بار بار نرمی سے لوٹنے ہی سے پکتا ہے۔ سو جب جب دھیان بھٹکنے کا احساس ہو اور آپ واپس آ جائیں، یہ ناکامی نہیں، یہی تو مشق ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی نماز میں صرف سورۃ فاتحہ کو اپنا ٹھکانا بنا لیجیے۔ جہاں دھیان پھسلے، خود کو ملامت کیے بغیر وہیں واپس لے آئیے، جیسے کسی چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے واپس لے آتے ہیں۔
