دل کے سوال

جب میں صوفیوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں ایسے لوگ آتے ہیں جو دنیا کو ٹھکرا دیتے ہیں، مزاروں پر بیٹھے رہتے ہیں، اور کام اور دولت سے کنارہ کرتے ہیں۔ کیا تصوف واقعی زندگی سے کنارہ کشی اور فقر و بیکاری کو گلے لگانے کا نام ہے؟

Tasawwuf dunya se kinara kashi hai

ذہن میں یہ تصویر بن جانا کوئی انوکھی بات نہیں، بہت لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر تصوف دنیا سے بھاگنے یا کام چھوڑ کر کسی گوشے میں بیٹھ رہنے کا نام نہیں۔ یہ تو بازار میں چلتے ہوئے دل کو اللہ کے ساتھ لگا رکھنے کا ہنر ہے۔ دنیا ہاتھ میں رہے، دل پر سوار نہ ہو، بات اتنی سی ہے۔

رہبانیت یعنی دنیا سے کٹ جانے کا راستہ تو خود اللہ تعالیٰ نے انسان کی اپنی ایجاد بتایا ہے، اپنا حکم نہیں

”اور رہبانیت، جسے انہوں نے خود گھڑ لیا، ہم نے وہ ان پر فرض نہیں کی تھی، انہوں نے تو اللہ کی رضا چاہنے کے لیے اسے اختیار کیا، پھر اُنہوں نے اُس کی ویسی رعایت نہ کی جیسی رعایت کا حق تھا۔“

قرآنِ کریم، سورۃ الحدید ۵۷:۲۷ · مفہوم

غور کیجیے، نیت کی بھی رعایت رکھی گئی کہ وہ اللہ کی رضا ہی چاہتے تھے، مگر ساتھ یہ بھی صاف کہہ دیا گیا کہ یہ سختی اُن پر فرض کی ہی نہ گئی تھی، اور آخر وہ اُسے نبھا بھی نہ سکے۔ سو جو راہ دنیا کو یکسر ٹھکرا دینے، کام سے ہاتھ کھینچ لینے اور بےکاری کو تقویٰ سمجھنے کی تعلیم دے، وہ نہ قرآن کی راہ ہے نہ نبی کریم ﷺ کی۔ ایک بار چند صحابہ نے عبادت میں اسی طرح کی سختی اختیار کرنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا

”میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری سنت سے منہ پھیرے، وہ مجھ سے نہیں۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۰۶۳) · مفہوم

یہی توازن تصوف کی جان ہے۔ نقشبندی مشائخ کے ہاں، اور خاص طور پر حضرت شیخ شہزاد عارف صاحب کی تعلیم میں، اسے ”خلوت در انجمن“ کہا جاتا ہے، یعنی ہاتھ کام میں اور دل یار کے ساتھ۔ سالک بازار میں ہو، دفتر میں، کھیت میں، یا بچوں کے درمیان، وہ دل کو اللہ کی یاد سے تر رکھتا ہے۔ محنت سے حلال کمانا، گھر بسانا، اولاد کی تربیت کرنا، یہ سب اِس راہ میں رکاوٹ نہیں، عبادت کے میدان ہیں۔

اللہ کے ولی کماتے بھی ہیں، خرچ بھی کرتے ہیں، لوگوں کے کام بھی آتے ہیں، سودا بھی کرتے ہیں اور کھرا کرتے ہیں، مگر دل کسی لمحے مالک سے غافل نہیں ہوتا۔ اصل مطلوب ہاتھ کا خالی ہونا نہیں، دل کا فکروں اور حرص سے خالی ہونا ہے۔

اِس اندیشے کو دل سے نکال دیجیے کہ یہ راہ آپ سے الگ بیٹھ رہنے کا تقاضا کرے گی۔ تقاضا اِس کے برعکس ہے، زیادہ محنتی، زیادہ کارآمد اور زیادہ امانت دار ہونے کا، کیونکہ اب کام اُس ذات کی رضا کے لیے ہوتا ہے جو دیکھ رہی ہے۔

ایک چھوٹا قدم: کل کام یا پڑھائی شروع کرنے سے پہلے ایک لمحہ رکیے اور دل میں ہلکے سے کہیے، ”یا اللہ، یہ کام بھی تیرے لیے،“ اور دن کے اِس ایک عام کام کو عبادت بنا لیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔