مجھے لگتا ہے میری نمازیں اتنی خیالات اور بے دلی سے بھری ہیں کہ وہ کھوکھلی ہوں گی۔ کیا کھوکھلے اعمال بالکل نہ ہونے سے بہتر ہیں؟
Bina dhyan namaz ka kya faida
پہلی بات یہ سمجھ لیجیے کہ جس نماز میں خیالات آتے جاتے رہیں، وہ کھوکھلی نہیں ہوتی۔ خیال کا آنا آپ کے اختیار میں نہیں، اور جو چیز اختیار میں نہ ہو، اُس پر گرفت نہیں ہوتی۔ وقت پر کھڑا ہونا، رکوع کرنا، زمین پر پیشانی رکھنا، یہ سب ہو رہا ہے اور یہ سب لکھا جا رہا ہے۔ خیال تو وہ پرندہ ہے جو کمرے میں سے گزر جاتا ہے، گھر اُس کا نہیں ہوتا۔ اور جتنی بار دھیان بھٹکے اور آپ لوٹ کر نماز کی طرف آئیں، ہر بار کی یہ واپسی بھی لکھی جا رہی ہے۔
آپ نے پوچھا ہے کہ ادھورا عمل بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے یا نہیں۔ اِس سے پہلے ذرا یہ دیکھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود نماز کے بارے میں کیا بتایا کہ یہ کس کام کے لیے رکھی گئی ہے:
”بےشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔“
قرآن، سورۃ العنکبوت ۲۹:۴۵ · مفہوم
یہ نماز کا اپنا وعدہ ہے، اور جتنا دل حاضر ہوتا جائے، اِس وعدے کا ذائقہ اُتنا ہی کھلتا چلا جاتا ہے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے دل سنور جائے، پھر نماز میں کھڑے ہوں۔ نماز تو وہ جگہ ہی ہے جہاں دل سنورتا ہے، یہ کسی سنورے ہوئے دل کا انعام نہیں۔ اہلِ علم اِس معاملے میں آپ پر آپ سے کہیں زیادہ نرم ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ جس نماز میں خیالات آتے جاتے رہیں، وہ نماز ٹوٹتی نہیں، صحیح بھی ہے اور شمار میں بھی ہے، اور بن بلائے آنے والے خیال پر کوئی مواخذہ نہیں۔ آپ کا قیام لکھا جا رہا ہے، رکوع لکھا جا رہا ہے، اور خیال سے لوٹ کر نماز میں آنا بھی لکھا جا رہا ہے۔ نماز دل پر ویسے ہی کام کرتی ہے جیسے مٹی کے نیچے پڑے بیج پر پانی، خاموشی سے، چاہے بیج کو خود پتا نہ چلے۔ کیا خبر، جس نماز کو آپ ادھوری سمجھ رہے تھے، اُسی نے اِسی ہفتے آپ کو کسی غلط راستے پر قدم رکھنے سے تھام لیا ہو۔
سو ادھوری نماز کا موازنہ نماز چھوڑ دینے سے نہ کیجیے، اِن دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ مطلوب کبھی کبھار کا جوش نہیں، بلکہ وہ چھوٹی سی دھار ہے جو رکتی نہیں:
”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشگی سے کیا جائے، خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۴۶۴) · مفہوم
غور فرمائیے، مدار کمی بیشی پر نہیں، دوام پر رکھا گیا ہے۔ جو نماز آپ کو ادھوری اور بےدلی بھری لگتی ہے، اگر آپ اُسے چھوڑنے کے بجائے پابندی سے پڑھتے رہے، تو یہی تسلسل اُسے اللہ کی بارگاہ میں محبوب بنا دے گا۔ جو دروازہ چھوڑ دیا جائے، اُس سے کوئی راہ نہیں کھلتی، اور جس پر بندہ روز دستک دیتا رہے، وہ کسی نہ کسی دن کھل جاتا ہے۔ اِس لیے نماز چھوڑنے کا خیال دل سے نکال دیجیے۔ اپنا بھٹکتا ہوا دل جیسا ہے ویسا ہی نماز میں لے آئیے، اور جو کام آپ خود اپنے دل کے ساتھ نہیں کر سکتے، وہ نماز کو دن بہ دن کرنے دیجیے۔
ایک چھوٹا قدم: آج کی ایک نماز میں صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت دل میں یہ خیال لے آئیے کہ اب میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوں۔ پوری نماز کی یکسوئی کا بوجھ نہ اٹھائیے، بس اِسی ایک لمحے کو سنبھال لیجیے، باقی رب کی رحمت پر چھوڑ دیجیے۔
